کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxviii of 566

کشتیءنوح — Page xxviii

مجھے مسودہ جواب پہنچا دیا۔جن لوگوں کو ذاتی طور پر خواجہ شمس صاحب کی مصروفیات کا علم ہے کہ دن رات وہ سفر اور بے اطمینانی اور بے سر و سامانی کی حالت میں رہتے ہیں وہ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر تائیدِ ربّانی میرے فاضل دوست کے شامل حال تھی۔نہ اپنے وقت پراختیار رکھتے ہیں کیونکہ جس وقت حکم ہو اور جہاں بھی حکم ہو فوراً ان کو اکثر پا پیادہ چل کر پہنچنا پڑتا ہے پاس نہ کوئی کتاب رکھ سکتے ہیں۔ایسی حالت میں سِلسلہ احمدیہ کے پُرانے دشمن کے مایۂ ناز سرمایہ عمر گذشتہ اعتراضات کا اس خوبی سے قلع قمع کرنا خراجِ تحسین لئے بغیر نہیں چھوڑتا۔جزاہ اﷲ احسن الجزاء‘‘ (ریویو آف ریلیجنز اردو ماہ اپریل ۱۹۲۴ء) یہ رسالہ مارچ میں چھپ گیا اور اس کی ایک کاپی رجسٹری کر کے مولوی ثناء اﷲ صاحب کو بھیج دی گئی۔یکم۔دوم۔سوم اپریل کو غیر احمدیوں کا قادیان میں جلسہ تھا۔اس جلسہ میں مولوی ثناء اﷲ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں ’’شہادات مرزا‘‘ کا ذکر کیا کہ ایک ہزار روپیہ انعام مقرر ہے اور اب تک کسی نے اس کا جواب نہیں لکھا۔اُسی وقت رسید رجسٹری دکھائی گئی اور میر قاسم علی صاحب نے بآ واز بلند کہا کہ جواب بھیجا جا چکا ہے۔بس پھر گھگھی بندھ گئی اور ایسا دم بخودہوا کہ کچھ بات نہ بن آئی۔‘‘ (الفضل ۸؍ اپریل ۱۹۲۴ء) ’’کمالاتِ احمدیہ‘‘ کا مولوی ثناء اﷲ سے جواب طلب کیا گیا مگر انہیں جواب لکھنے کی جرأت نہ ہوئی۔لیکن اپنی خفّت اور ندامت کو کم کرنے کے لئے ’’کمالاتِ احمدیہ‘‘ کی اشاعت کے آٹھ ماہ بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اﷲ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے ’’اہلحدیث‘‘ ۵؍ دسمبر میں ’’ایک کھلی چٹھی‘‘ شائع کی جس میں انہوں نے لکھا :۔۱۔’’چونکہ راقم مضمون نے اب تک انعام کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی طریق فیصلہ بتایا ہے اور نہ ہی مجھ سے پوچھا ہے۔لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ خود ہی اپنے جواب کو کمزور سمجھتے ہیں۔‘‘ ۲۔اور لکھا ’’کیا ممکن ہے کہ آپ ہی حلفیہ مؤکد بعذاب تا ایک سال فیصلہ کر دیں کہ جواب صحیح ہے یا غلط ہے؟‘‘ ’’الفضل ‘‘ ۲۶ ؍ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۴ میں مَیں نے اس کھلی چٹھی کا جواب دیتے ہوئے نمبر ۱ کے متعلق