کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 550

کشف الغطاء — Page 193

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۳ کشف الغطاء اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے تا امن اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں۔ میں نے اس نام کے معنے یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں کئے بلکہ آج سے انیس برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بھی یہی معنے کئے ہیں۔ ممکن ہے کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں کیونکہ یہ باتیں دنیا کی سمجھ سے بڑھ کر ہیں اور دنیا ان کو شناخت نہیں کر سکتی خاص کر قدیم فرقوں کے مسلمان جن کے ایسی پیشگوئیوں کی نسبت خطر ناک اصول ہیں۔ یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد میں سے ہوگا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے جو نادانی اور دھوکا سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور بیچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالبا عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں اور صحیح اور راست صرف اس قدر ہے کہ ایک شخص عیسی علیہ السلام کے نام پر آنے والا بیان کیا گیا ہے کہ جو نہ لڑے گا اور نہ خون کرے گا اور غربت اور مسکینی اور حلم اور براہین شافیہ سے دلوں کو حق کی طرف پھیرے گا ۔سوخدا نے کھلے کھلے کلام اور نشانوں کے ساتھ مجھے خبر دی ہے کہ وہ شخص تو ہی ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے آسمانی نشان ۱۳ نازل کئے ہیں اور غیب کے بھید اور آنے والی باتیں میرے پر ظاہر فرمائی ہیں اور وہ معارف مجھ کو عطا کئے ہیں کہ دنیا ان کو نہیں جانتی ۔ اور یہ میرا عقیدہ کہ کوئی خونی مہدی دنیا میں آنے والا نہیں تمام مسلمانوں سے الگ عقیدہ ہے اور میں نے اس عقیدہ کو اپنی تمام جماعت اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا ہے ۔ اور یہ مسلمانوں کی امیدوں کے