کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 550

کشف الغطاء — Page 194

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۴ کشف الغطاء برخلاف ہے ۔ بلا شبہ ان کے عقیدے ایسے تھے کہ جو وحشیانہ جوشوں کو پیدا کرتے اور تہذیب اور شائستگی سے دور ڈالتے تھے اور غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدوں کا انسان ایک خطرناک انسان ہوتا ہے سو خدا نے جو رحیم کریم ہے میرے ظہور سے صلح کاری کی بنیاد ڈالی اور میری جماعت کے دلوں کو ان بیہودہ عقیدوں سے ایسا دھو دیا ہے جیسے ایک کپڑا صابون سے دھویا جائے ۔ پس یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اور جس طرح یہود کی امیدوں کے موافق حضرت مسیح علیہ السلام بادشاہ ہو کر نہ آئے اور نہ غیر قوموں سے لڑے آخر یہود نے ان پر ظلم کرنا شروع کیا اور کہا کہ یہ وہ نہیں ہے جس کا ہمیں انتظار تھا۔ یہی سبب اس جگہ پیدا ہو گیا ۔ ہاں اس کے ساتھ دوسرے اختلاف بھی ہیں چنانچہ ان لوگوں کا ایک یہ بھی مذہب ہے کہ حتی المقدور غیر قوموں سے کینہ رکھا جائے اور اگر موقعہ ملے تو ان کا نقصان بھی کیا جائے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہر گز کوئی آدمی مسلمان نہیں بنتا جب تک کہ دوسروں کی ایسی ہمدردی نہیں کرتا جیسا کہ اپنے نفس کے لئے اور میری یہی نصیحت ہے کہ دلوں کو صاف کرو اور تمام بنی نوع کی ہمدردی اختیار کرو اور کسی کی بدی مت چاہو کہ اعلیٰ تہذیب یہی ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ دوسری قوموں سے انتقام لینے کیلئے سخت حریص ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ عفو اور در گذر کرو اور کینہ ور اور منافق طبع مت بنو۔ زمین پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔ اور میں نے نہ صرف کہا بلکہ عملی طور پر دکھلایا اور میں نے ہرگز پسند نہیں کیا کہ جو شخص شر کا ارادہ کرتا ہے اس کے لئے میں بھی شر کا ارادہ کروں ۔ مثلاً ڈاکٹر کلارک نے اقدام قتل کا الزام میرے پر لگا یا تھا جو عدالت میں ثابت نہ ہوا بلکہ اس کے برخلاف قرائن پیدا ہوئے ۔ تب کپتان ڈگلس صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا آپ ڈاکٹر کلارک پر نالش کرنا چاہتے ہیں؟ تو میں نے انشراح صدر سے کہا کہ نہیں بلکہ میں نے ۱۳ ان عیسائیوں پر نالش کرنے سے بھی اعراض کیا جو عدالت کی تحقیق کے رو سے ملزم ٹھہرے تھے اگر عفو اور درگذر میرا مذہب نہ ہوتا تو اس قدر دکھ اٹھانے کے بعد میں ضرور نالش کرتا۔