کشف الغطاء — Page 192
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۲ کشف الغطاء محبوب حقیقی کو جاملے اور کشمیر کے خطہ کو اپنے پاک مزار سے ہمیشہ کے لئے فخر بخشا ۔ کیا ہی خوش قسمت ہے سری نگر اور انموزہ اور خان یار کا محلہ جس کی خاک پاک میں اس ابدی شہزادہ خدا کے مقدس نبی نے اپنا مطہر جسم ودیعت کیا اور بہت سے کشمیر کے رہنے والوں کو حیات جاودانی اور حقیقی نجات سے حصہ دیا ہمیشہ خدا کا جلال اس کے ساتھ ہو آمین ۔ سوجیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونہ پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں ان لوگوں میں کھڑا کرے جو ملکوتی اخلاق سے بہت دور جاپڑے ہیں ۔سواس نمونہ پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ میں غربت اور مسکینی سے دنیا میں رہوں ۔ خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو۔ اسی لحاظ سے خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔ یعنی ایک شخص جو عیسی مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہمرنگ ہے۔ خدا نے مسیح علیہ السلام کو (۱۲) رومی سلطنت کے ماتحت جگہ دی تھی اور اس سلطنت نے اُن کے حق میں عمداً کوئی ظلم نہیں کیا مگر یہودیوں نے جو اُن کی قوم تھے بہت ظلم کیا اور بڑی توہین کی اور کوشش کی کہ سلطنت کی نظر میں اس کو باغی ٹھہر اویں۔ مگر میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے خدا اس کو سلامت رکھے رومیوں کی نسبت قوانین معدلت بہت صاف اور اس کے حکام پیلاطوس سے زیادہ تر زیر کی اور فہم اور عدالت کی روشنی اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ اور اس سلطنت کی عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے۔ سوخدا تعالیٰ کے فضل کا شکر ہے کہ اس نے ایسی سلطنت کے ظلّ حمایت کے نیچے مجھے رکھا ہے جس کی تحقیق کا پلہ شبہات کے پلہ سے بڑھ کر ہے۔ غرض مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیا گیا ہے اس کے معنے