جنگ مقدّس — Page 277
روحانی خزائن جلد ۶ پر کفر باقی نہ رہے۔ ۲۷۵ جنگ مقدس غ ۔ اگر در حقیقت کل دینوں سے قرآن نے یہی معاملہ کیا ہے کہ یا ایمان اور یا قتل تو آپ ایسے معنوں کے کرنے میں بچے ہیں ورنہ جو حال ہے سمجھ لیجئے۔ ع۔ اگر ایمان بالجبر نہ تھا تو عربوں کے لئے یہ کیوں شرط لگائی گئی کہ یا ایمان یا قتل۔ غ ۔ قتل کا حکم عربوں کی نسبت اُن کی خونریزیوں کی وجہ سے تھا جو اسلامی لڑائیوں سے پہلے انہوں نے اسلام کے غریب اور گوشہ گزین جماعت کو قتل کرنا شروع کیا اور ایمان پر رہائی دینا اُن کے لئے ایک رعایت تھی جو صفات الہیہ کے مخالف نہیں۔ دیکھو کتنی دفعہ تو بہ (۱۷۶) کے وقت یہودیوں کو خدا تعالیٰ نے اپنے قہر سے نجات دی اور نیز شفاعت سے بھی ۔ ع موسی کی لڑائیوں میں امان بشرط ایمان جناب دکھلا نہ سکے۔۔ غ ۔ امان بشرط جزیہ تو آپ دیکھ چکے ۔ دیکھو قاضیوں کی کتاب باب ۲۸ تا ۳۵ پھر صلح کا پیغام بھی سن چکے اگر قہر تھا تو پھر صلح کیسی دیکھو استثناء با صلح کرنے والا ایمان سے قریب ہو جاتا ہے اور پھر ایمان لانے سے کون روکتا ہے۔ ع۔ معصوم بچوں کو قتل کرنا وباؤں کی موت کی طرح ہے۔ غ ۔ ننھے ننھے شیر خوار بچوں کو اُن کی ماؤں کے سامنے تلواروں اور برچھیوں سے قتل کرنا ایک نہ دو بلکہ لاکھ ہا بچوں کو اگر یہ خدائے تعالی کے حکم سے ہے تو پھر قرآنی جہاد کیوں جائے اعتراض سمجھے جاتے ہیں۔ کیا خدائے تعالیٰ کی یہ صفات ہیں اور وہ نہیں ۔ ع۔ موسیٰ کو حکم تھا کہ ان سات قوموں کو بالکل عدم کر دیوے۔ غ ۔ کہاں وہ قو میں عدم کی گئیں صلح کی گئی جز یہ پر چھوڑے گئے ۔ عورتیں باقی رکھی گئیں۔ ع۔ اسلام لانے کے لئے جبر کیا گیا ہے۔ ۔ جس نے لَا إِكْرَاةَ في الدِّينِ فرمایا ۔ صلح کو قبول کیا ۔ جزیہ دینے پر امان دے دی۔ اس کو کون جابر کہہ سکتا ہے۔ البقرة: ۲۵۷