جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 502

جنگ مقدّس — Page 278

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷۶ جنگ مقدس ع۔ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ یہ بہتان مکاری کپڑے اتارلیں میں نے ڈپٹی صاحب کے قول سے ایسا سمجھا ہے۔ غ۔ اگر یہی تعلیم ہے تو آیت قرآن شریف کی پیش کیجیے بلکہ جنہوں نے تلواروں سے قتل کیا وہ تلواروں سے ہی مارے گئے جنہوں نے ناحق غریبوں کو لوٹا وہ لوٹے گئے جیسا کیا ویسا پایا بلکہ ان کے ساتھ بہت نرمی کا برتاؤ ہوا جس پر آج اعتراض کیا جاتا ہے کہ کیوں ایسا برتاؤ ہوا سب کو قتل کیا ہوتا۔ ع ۔ قرآن نے جائز رکھا کہ خوف زدہ ایمان کا اظہار نہ کرے۔ غ ۔ اگر قرآن کی یہی تعلیم ہے تو پھر ای قرآن میں یہ حکم کیوں ہے ۔ وَجهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ (سورۃ تو به رکوع ۳) اور كَأَنَّهُمْ بُنْيَانُ مَّرْصُوص اور یہ کہ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله " ۳ اصل بات یہ ہے کہ ایمانداروں کے مراتب ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالخَیراتِ TE" یعنی بعض مسلمانوں میں سے ایسے ہیں جن پر نفسانی جذبات غالب ہیں اور بعض درمیانی حالت کے ہیں اور بعض وہ ہیں کہ انتہاء کمالات ایمانیہ تک پہنچ گئے ہیں پھر اگر اللہ تعالیٰ نے برعایت اس طبقہ مسلمانوں کے جو ضعیف اور بزدل اور ناقص الایمان ہیں یہ فرما دیا کہ کسی جان کے خطرہ کی حالت میں اگر وہ دل میں اپنے ایمان پر قائم رہیں اور زبان سے گواس ایمان کا اقرار نہ کریں تو ایسے آدمی معذور سمجھے جاویں گے مگر ساتھ اس کے یہ بھی تو فرما دیا کہ وہ ایماندار بھی ہیں کہ بہادری سے دین کی راہ میں اپنی جانیں دیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے اور پھر حضرت پولوس کا حال آپ پر پوشیدہ نہیں جو فرماتے ہیں کہ میں یہودیوں میں یہودی اور غیر قوموں میں غیر قوم ہوں اور حضرت پطرس صاحب نے بھی مخالفوں سے ڈر کر تین مرتبہ انکار کر دیا بلکہ ایک دفعہ نقل کفر کفر نباشد - حضرت مسیح پر لعنت بھیجی اور اب بھی میں نے تحقیقا سنا ہے کہ بعض انگریز اسلامی ملکوں میں بعض مصالح کے لئے جا کر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ ع۔ قرآن میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین نے آفتاب کو دلدل میں غروب ہوتے پایا۔ غ۔ یہ صرف ذوالقرنین کے وجد ان کا بیان ہے آپ بھی اگر جہاز میں سوار ہوں تو آپ کو بھی التوبة : ٢٠ الصف : ۵ الاحزاب : ۴۰ فاطر:۳۳