جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 502

جنگ مقدّس — Page 272

روحانی خزائن جلد ۶ جنگ مقدس (۳) روزہ کے رکھنے کی حدود زمانہ قرآن میں یہ بیان ہوئی ہیں کہ دن کی سفید دھاری کے نکلنے سے پہلے شروع کیا جائے اور شام کی سیاہی کی دھاری کے آنے تک اُس کو رکھا جائے اس میں سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کل انسانوں کے واسطے ہے تو گرین لینڈ اور آئس لینڈ کا حال کیا ہوگا ؟ جہاں چھ مہینے تک سورج طلوع نہیں کرتا ۔ اگر کہو کہ وہاں وقت کا اندازہ کر لینا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن وقت کا اندازہ خود کرتا ہے اور کسی دوسرے کو اس کا اندازہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ چند برائے نمونہ وہ تعلیمات قرآنی ہیں جو بالبداہت صداقت کے برخلاف ہیں۔ (۴) ماسواء اس کے ظاہر ہے کہ چھوٹا بڑے کی قسم کھا سکتا ہے اور معنی قسم کے یہ ہیں کہ اگر اس کا بیان جھوٹا ہو تو اس بڑے کی مار اس پر پڑے لیکن جبکہ قرآن میں اونچی چھت ابلتے پانی اور زیتون اور قلم وغیرہ کی قسمیں لکھی ہیں تو یہ چیز میں خدا کو کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ایسی قسمیں صرف ہنسی کی سی معلوم نہیں ہوتیں تو اور کیا ہیں۔ جواب امروزه ا۔ جناب فرماتے ہیں کہ ایمان بالجبر کی تعلیم قرآن میں نہیں ہے۔ اس پر اور کچھ کہنا ضرور نہیں منصف ہر دو کے بیانوں کو دیکھ لیں گے ۔ خود ہی انصاف کر لیں گے ۔ قہر الہی کے حکم کی (۱۷۲) تعمیل اور بات ہے اور پالیسی کی تجویز کی تعبیر اور بات ہے ۔ موسی کو حکم الہی تھا کہ ان سات قوموں کو بالکل عدم کر دو جیسے کہ طوفان کا حکم ہو یا خاص وبا کا حکم ہو کہ جس میں گناہ گار تو مارے جاتے ہیں اور بے گناہوں کا امتحان ختم ہو جاتا ہے اُن کو گناہ گار نہیں بنایا جاتا مگر جناب کے حکم پالیسی کے ہیں جس میں لکھا ہے کہ بچے اور عور تیں وغیرہ محفوظ رکھے جاویں اور جو شخص اسلام پر آجائے اُس کو امان دیا جاوے۔ پس یہی تو امان منحصر برایمان ہے جس پر اعتراض قائم ہوتا ہے اور خدا کے دباؤں کے او پر خواہ کی اسباب سے ہوں کوئی اعتراض قائم نہیں ہوتا۔ مامنہ کے معنے یہ نہیں کہ اُس شخص کا وطن اور گھر امن کا ٹھہرایا جاوے بلکہ سورہ انفال میں ایک آیت ہے جس کا حوالہ میں ابھی ڈھونڈ کے دوں گا جس میں لکھا ہے کہ جو گھر چھوڑ کے ہمارے