جنگ مقدّس — Page 273
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷۱ جنگ مقدس بیچ میں آکر نہ رہے ہماری جنگ سے محفوظ نہیں۔ یہاں سے ثابت ہے کہ مامنہ وہی جگہ ہے کہ جہاں اُن پر غیر لوگ تکلیف نہ پہنچا سکیں اور اُن کو دین سے پھر جانے کا پھر موقع نہ ملے۔ ہم نے بہت قسم کے جہاد جناب کے تسلیم کر لئے ہیں ہمارا اعتراض جہاد ایمان بالجبری پر ہے جو اس سے سوا آپ نے فرمایا وہ سوا ہی ہے ۔ ہماری آیات سند کا آپ نے اچھی طرح سے جواب نہیں دیا۔ اور وہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ موسیٰ نے اچھی اچھی عورتیں جو لوٹ سے بچالی گئیں خود رکھ لیں۔ توریت سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جو اُس نے ایک شادی رغوائیل یا تیرو کی لڑکی سے شادی کی تھی اُس کے سوا اور کوئی شادی نہیں کی اور نہ لونڈی رکھی ۔ البتہ اُس نے بعض عورات کو جولوٹ میں بنی اسرائیل لائے ۔ رکھ چھوڑنے کی اجازت دی لیکن اُن کا پیچھے رونے والا بھی کوئی نہ تھا کیونکہ سب کا قتل عام کا حکم تھا۔ اور ایسا ہی ہر وبا میں ہوتا ہے کہ ہمشیت الہی بعضے بچ بھی جاتے ہیں لیکن قرآن میں جو لوٹ کی عورتیں اور خرید کی عورتیں جائز رکھی گئی ہیں اُن کو آپ کس طرح سے چھپا سکتے ہیں کہ جن کے پیچھے رونے والے بھی موجود تھے۔ دیکھو سورہ احزاب میں جس میں یہ لکھا ہے يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا اَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ الَّتِى أَتَيْتَ اُجُورَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۔ اس میں ملک ہونا بذریعہ خرید کے ہے اور کسی بذریعہ کوٹ کے ہے۔ اور جو سرسید احمد خان صاحب نے اس آیت کی تفسیر کی ہے اُس کا موقع ابھی نہیں مگر پیچھے سے اُن کی غلطی ہم دکھا دیں گے۔ موسی کی لڑائیوں میں ہم نے فرق دکھلا دیا کہ وہ بحکم الہی تھیں و با نشان اور قرآن کی لڑائیاں ظاہر ہے کہ پالیسی کی تھیں جس کے واسطے کبھی تصدیق کسی معجزہ کی نہیں ہوئی اور ہے۔ تعظیمات اس کے برخلاف صفات ربانی کے ہیں لہذا ہم اس کو الہامی نہیں کہہ سکتے ۔ ۲۔ یہ تو سچ ہے کہ برتن سونے چاندی کے بنی اسرائیل نے مصریوں سے مستعار لئے تھے لیکن وہ سونا چاندی جس حقیقی مالک کی ملک ہیں یعنی خدا کی ۔ اُسی خدا نے اُن کو الاحزاب: ۵۱ ۱۷۳