جنگ مقدّس — Page 271
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۹ به بیان ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحہ بقایا بیان سابقہ امروزه:جنگ مقدس ۱۴۔ موسیٰ کی لڑائیوں میں امان بشرط ایمان جناب نہ دکھلا سکیں گے۔ اور وباؤں میں جیسا کہ طوفان نوح تھا یا اور مریان میں جناب نہیں کہہ سکتے کہ بحکم خدا نہیں یا معصوم ان میں مارے جانے سے نا معصوم ٹھہر جاتے ہیں۔ پس یا تو انکار فرمائیے کہ توریت کلام اللہ نہیں یا اعتراضوں کو بند کیجئے ۔ ہمارے اعتراض قرآن کے اوپر صفات ربانی کے مخالف ہونے کے باعث ہیں اور اس سے ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کلام اللہ نہیں ہو سکتا اور نبی اسلام صلعم رسول اللہ نہیں ہو سکتے اور ان اعتراضوں کے برخلاف ہم نے بھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ کلام الہامی ہے اور یہ رسول حقیقی ۔ پس یہ ویسے اعتراض نہیں کہ جیسے آپ تو ریت پر کرتے ہیں کہ جس کو آپ بروئے قرآن کلام اللہ بھی جانتے ہیں اور موسیٰ کو رسول اللہ بھی اور پھر معترض ہوتے ہیں۔ جیسے ہم نے صفات الہی کے مخالف تعلیمات قرآنی کو تھوڑا سا ظاہر کیا ہے۔ ہم چند تعلیمات اے کے قرآنی اور بھی بیان کرتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ قرآن بجائے حق پرستی کے ناحق کے خوف کی پرستش جائز کرتا ہے جیسے کہ سورہ نحل میں لکھا ہے کہ جو شخص ایمان اللہ کے بعد تکفیر برنام اللہ کے کرے بشر طیکہ وہ مجبور نہ ہو اور اپنے دل میں مطمئن ہو ایسے پر اللہ کا غضب ہے یعنی حالت مجبوری میں اور اطمینان دلی میں بابت حق ہونے اللہ کے انکار اللہ سے قابل غضب الہی کے نہیں اور یہ صاف ناحق کی خوف پرستی ہے بجائے حق پرستی کے جو حق کہ قادر مطلق ہے اور پھر سورۃ کہف میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین جب غرب میں پہنچا تو اُس نے پایا کہ غروب ہونا سورج کا دلدل کی ندی میں ہوتا ہے۔ اگر چہ یہاں پانا ذوالقرنین کا لکھا ہے لیکن کلام قرآنی کی تصدیق کے سوا نہیں یعنی تصدیق قرآنی اس کے ساتھ اور یہ امر واقعی نہیں پھر اس کو حق کے ساتھ کیونکر موافق کیا جائے۔