جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 502

جنگ مقدّس — Page 270

جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۸ بیان کر چکا ہوں وعد اور وعید سے وابستہ ہیں یعنی اگر نیکی کرے تو اُس کو ضرور نیک جزا ملے گی ۔ اور اگر بدی کرے تو اُس کو بد شمرہ ملے گا۔ اور ساتھ اس کے یہ بھی وعدہ ہے کہ ایمان اور توبہ پر نجات ملے گی تو پھر اس صورت میں کفارہ کا کیا تعلق رہا۔ کیا کسی کے مصلوب ہونے سے اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں سے دست کش ہو سکتا ہے۔ صاحب یہ تو قانونی سزائیں ہیں جو انسانوں کو ملیں گی ۔ حقوق کی سزائیں نہیں جیسا کہ آپ کا بھی یہی ۱۷۰) مذہب ہے پھر جبکہ یہ حالت ہے تو یہ جزا ئیں اور سزائیں صرف وعد و وعید کی رعایت سے ہو سکتی ہیں اور کوئی صورت نہیں ہے جو اس کے بر خلاف ہو ۔ اور یہ بات سچ ہے کہ اللہ تعالی بدی پر راضی نہیں کفر پر راضی نہیں اس سے کون انکار کرتا ہے مگر جرائم اُسی وقت جرائم کہلاتے ہیں جب قانون اُن کو جرائم ٹھہرا دے ورنہ دنیا میں صد با طور کے ناجائز امور ہوئے اور ہو رہے ہیں وہ اگر کتاب الہی سے خارج ہوں تو کیونکر جرائم ہو سکتے ہیں مثلاً جیسے انسان قتل و خونریزی کرتا ہے ایک درندہ بھی مثلاً شیر ہمیشہ خونریزی کر کے اپنا پیٹ بھرتا ہے اور جیسے انسان کو اپنے امور نکاح کے متعلق ماں بہن اور رشتوں سے پر ہیز ہوتا ہے جانوروں میں یہ بھی نہیں پایا جاتا اور یہ بھی ہے کہ انسانوں میں شریعت کے ذریعہ سے بھی ایسے احکام بدلتے رہے ہیں کہ حضرت موسی کو اجازت ہوئی کہ لڑائی میں جو عورتیں پکڑی جائیں اُن میں سے جس کو پسند کر لیں اپنے لئے رکھ لیں بچوں کو قتل کر دیں بیگانہ مال دروغ گوئی کے طور لے کر اپنے قبضہ میں کریں اور دور دراز منازل تک اس پر اکل و شرب کا گزارہ ہو۔ لوگوں کے شہروں کو پھونک دیں مگر یہ اجازت دوسری شریعتوں میں کہاں ہوئی۔ ( باقی آئندہ) ۔