جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 502

جنگ مقدّس — Page 226

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۴ جنگ مقدس کے یہ آپ کا خوب جواب ہے سوال تو یہ تھا کہ ان دونوں میں سے آپ حقیقی کس کو مانتے ہیں۔ آپ نے اس کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔ پھر آپ دعوے کے طور پر فرماتے ہیں کہ آسمان کے نیچے دوسرا نام نہیں جس سے نجات ہو اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح گناہ سے پاک تھا اور دوسرے نبی گناہ سے پاک نہیں مگر تعجب کہ حضرت مسیح نے کسی مقام میں نہیں فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور میں ہر ایک قصور اور ہر ایک خطا سے پاک ہوں اور یہ کہنا حضرت مسیح کا کہ کون تم میں سے مجھ پر الزام لگا سکتا ہے یہ الگ بات ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے مقابل پر اور تمہارے الزام سے میں مجرم اور مفتری نہیں ٹھہر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کے حضور میں حضرت مسیح صاف اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرتے ہیں جیسا کہ متی باب ۱۹ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے نیک ہونے سے انکار کیا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن اور انجیل دونوں کلام خدا ہو کر پھر دو مختلف طریقے نجات کے کیوں بیان کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جو قرآن کے مخالف انجیل کے حوالہ سے طریقہ بیان کیا جاتا ہے وہ صرف آپ کا بے بنیاد خیال ہے۔ اب تک آپ نے ثابت کر کے نہیں دکھایا کہ حضرت مسیح کا قول ہے انجیل میں تو نہ بالصراحت و بالفاظ کہیں تثلیت کا لفظ موجود ہے اور نہ رحم بلا مبادلہ کا۔ قرآن کریم کی تصدیق کیلئے وہ حوالجات کافی ہیں جو ابھی ہم نے پیش کئے ہیں جبکہ قرآن اور عہد عتیق اور جدید کے بہت سے اقوال بالا تفاق آپ کے کفارہ کے مخالف ٹھہرے ہیں تو کم سے کم آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ اس عقیدہ میں آپ سے غلط فہمی ہو گئی ہے۔ کیونکہ ایک عبارت کے معنے کرنے میں کبھی انسان دھو کا بھی کھا جاتا ہے جیسا آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے بھائیوں رومن کیتھلک اور یونی ٹیرین نے انجیل کے سمجھنے میں دھوکا کھایا ہے اور وہ دونوں فریق آپ کو دھو کہ پر سمجھتے ہیں۔ پھر جب گھر میں ہی پھوٹ تو پھر آپ کا اتفاقی مسئلہ کو چھوڑ دینا اور اختلافی خبر کو پکڑ لینا کب جائز ہے۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان