جنگ مقدّس — Page 225
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۳ جنگ مقدس اس طرح سے سارے نبی جیتے ہیں مردہ کون ہے۔ کیا انجیل میں نہیں لکھا کہ حواریوں نے حضرت موسیٰ اور الیاس کو دیکھا اور ایسا کہا کہ اے استاد اگر فرما دیں تو آپ کے لئے جدا خیمہ اور موسیٰ کے لئے جدا اور الیاس کیلئے جدا کھڑا کیا جائے پھر اگر حضرت موسیٰ مردہ تھے تو نظر کیوں آگئے کیا مردہ بھی حاضر ہو جایا کرتے ہیں پھر اسی انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ لعاذ ر مرنے کے بعد حضرت ابراہیم کی گود میں بٹھایا گیا اگر حضرت ابراہیم مردہ تھے تو کیا مردہ کی گود میں بٹھایا گیا واضح رہے کہ ہم حضرت مسیح کی اس زندگی کی خصوصیت کو ہرگز نہیں مانتے بلکہ ہمارا یہ مذہب موافق کتاب وسنت کے ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیات اقومی اور اعلیٰ رکھتے ہیں اور کسی نبی کی ایسے اعلیٰ درجہ کی حیات نہیں ہے جیسے آنحضرت صلعم کی ۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ آنحضرت کو اسی بیداری میں دیکھا ہے، باتیں کی ہیں، مسائل پوچھے ہیں۔ اگر حضرت مسیح زندہ ہیں تو کیا کبھی کسی نے آپ لوگوں میں سے بیداری میں انکو دیکھا ہے پھر آپ کا یہ فرمانا کہ حضرت مسیح روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے مظہر اللہ نہیں تھے یہ اقبالی ڈگری ہے۔ آپ نے مان لیا ہے کہ تمہیں برس تک تو حضرت مسیح خالص انسان تھے مظہر وغیرہ نام ونشان نہ تھا پھر تیس برس کے بعد جب روح القدس کبوتر کی شکل ہو کر ان میں اتر اتو پھر مظہر اللہ بنے۔ میں اس جگہ اس وقت شکر کرتا ہوں کہ آج کے دن ایک فتح عظیم ہم کو میسر آئی کہ آپ نے خود اقرار کر لیا کہ تمہیں برس تک حضرت مسیح مظہر اللہ ہونے سے بالکل بے بہرہ رہے ترے انسان تھے۔ اب بعد اس کے یہ دعویٰ کرنا کہ پھر کبوتر اترنے کے بعد مظہر اللہ بن گئے یہ دعویٰ ناظرین کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ اگر روح القدس کا اُترنا انسان کو خدا اور مظہر اللہ بنا دیتا ہے تو حضرت یحیی اور حضرت ذکر یا حضرت یوسف حضرت یوشع بن نون اور کل حواری خدا ٹھہر جائیں گے ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ کیا مجسم ہونے سے وزنی ہو سکتا ہے۔ یہ عجب سوال ہے۔ کیا آپ کوئی ایسا جسم پیش کر سکتے ہیں کہ اس کو جسم تو کہا جائے مگر جسمانی لوازمات سے بالکل مبرا ہو مگر شکر یہ تو (۱۳۰) آپ نے مان لیا کہ آپ کے باپ اور بیٹا اور روح القدس متینوں مجسم ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کثرت في الوحدت اور وحدت میں کوئی تضاد نہیں ایک جگہ پائی جاتی ہیں یعنی بہ لحاظ جہات مختلفہ