جنگ مقدّس — Page 224
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۲۔ ZA جنگ مقدس ۱۴ ۱۳۰ حز قیل دانیال تم زبور ۳ و زبور میکا غرض کہاں تک لکھوں آپ ان کتابوں کو کھول کر پڑھیں اور دیکھیں کہ سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رحم بلا مبادلہ کی کچھ ضرورت نہیں اور ہمیشہ سے خدا تعالیٰ مختلف ذرائع سے رحم کرتا چلا آیا ہے پھر آپ فرماتے ہیں کہ تو بہ اور ایمان باہر کے پھاٹک ہیں یعنی با وجود تو به اور ایمان کے پھر بھی کفارہ کی ضرورت ہے یہ آپ کا صرف دعوئی ہے جو ان تمام کتابوں سے مخالف ہے جن کے میں نے حوالہ دے دیئے ۔ ہاں اس قدر سچ ہے کہ جیسے اللہ جل شانہ نے باوجود انسان کے خطا کا راور تقصیر وار ہونے کے اپنے رحم کو کم نہیں کیا ایسا ہی وہ تو بہ کے قبول کرنے کے وقت بھی وہی رحم مد نظر رکھتا ہے اور فضل کی راہ سے انسان کی بضاعت مزجات کو کافی سمجھ کر قبول فرما لیتا ہے اس کی اس عادت کو اگر دوسرے لفظوں میں فضل کے ساتھ تعبیر کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ نجات فضل سے ہے تو عین ناسب ہے کیونکہ جیسے ایک غریب اور عاجز انسان ایک پھول تحفہ کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں لے جاوے اور بادشاہ اپنی عنایات بے غایات سے اور اپنی حیثیت پر نظر کر کے اس کو وہ انعام دے جو پھول کی مقدار سے ہزار ہا بلکہ کروڑہا درجہ بڑھ کر ہے تو یہ کچھ بعید بات نہیں ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ اپنے فضل کے ساتھ اپنی خدائی کے شان کے موافق ایک گدا ذلیل حقیر کو قبول کر لیتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ دعاؤں کا قبول ہونا بھی فضل ہی پر موقوف ہے جس سے بائبل بھری ہوئی ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر چہ مسیح میں اور کچھ بھی زیادتی نہیں صرف ایک انسان ہے جیسے اور انسان ہیں اور ۱۳۹ خدا تعالیٰ وہی علاقہ عام طور کا اس سے رکھتا ہے جو اوروں سے رکھتا ہے لیکن کفارہ سے اور سیح کے آسمان پر جانے سے اور اس کے بے باپ پیدا ہونے سے اس کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے اس قول سے مجھے بڑا تعجب پیدا ہوا ۔ کیا دعووں کا پیش کرنا آپ کی کچھ عادت ہے۔ ہم لوگ کب اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح جی اُٹھا۔ ہاں حضرت مسیح کا وفات پا جانا قرآن شریف کے کئی مقام میں ثابت ہے لیکن اگر جی اٹھنے سے روحانی زندگی مراد ہے تو