جنگ مقدّس — Page 223
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۱ جنگ مقدس سے بغیر شرط کسی کی راستبازی کے جاری ہے اور جو گناہ خدا تعالیٰ کی کتاب نے پیش کئے وہ مشروط بشرائط ہیں یعنی یہ کہ جس کو وہ احکام پہنچائے گئے ہیں اس پر وہ بطور حجت کے وارد ہوں اور وہ دیوانہ اور مجنون بھی نہ ہو۔ اور مالکیت پر آپ یہ جرح فرماتے ہیں کہ اگر مالکیت کو تسلیم کیا جائے تو سارا کارخانہ درہم برہم ہو جاتا ہے تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ یہ کارخانہ اپنی مد کی ذیل میں چل رہا ہے پھر درہم برہم ہونے کے کیا معنے ہیں مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کے قانون کی خلاف ورزی کر کے اس کے قانونی وعدہ کے موافق سزاوار کسی سزا کا ٹھہرتا ہے تو خدا تعالیٰ کو مالک ہے کہ اس کو بخش دیوے لیکن بلحاظ اپنے وعدہ کے جب تک وہ شخص ان طریقوں سے اپنے تئیں قابل معافی نہ ٹھہرا دے جو کتاب الہی مقرر کرتی ہے تب تک وہ مواخذہ سے بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ وعدہ ہو چکا ہے لیکن اگر کتاب الہی مثلاً نازل نہ ہو یا کسی تک نہ پہنچے یا مثلاً وہ بچہ اور دیوا نہ ہو تو تب اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ مالکیت کا معاملہ ہوگا۔ اگر یہ نہیں تو پھر سخت اعتراض وارد ہوتا ہے کہ کیوں چھوٹے چھوٹے بچے مدتوں تک ہولناک دکھوں میں مبتلا رہ کر پھر ہلاک ہوتے ہیں اور کیوں کروڑہا حیوانات مارے جاتے ہیں ہمارے پاس بجز اس کے کوئی اور جواب بھی ہے کہ وہ مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر آپ اپنے پہلے قول پر ضد کر کے فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کسی کی شفاعت سے گناہ بخشے جاتے ہیں وہ ایک انتظامی امر ہے افسوس کہ آپ اس وقت مقنن کیوں بن گئے اور توریت کی آیتوں کو کیوں منسوخ کرنے لگے اگر صرف انتظامی امر ہے اور حقیقت میں گناہ بخشے نہیں جاتے تو تو ریت سے اس کا ثبوت (۱۳۸) دینا چاہیے۔ توریت صاف کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی شفاعت سے کئی مرتبہ گناہ بخشے گئے ۔ اور بائبل کے تقریباً کل صحیفے خدا تعالیٰ کے رحیم اور تو اب ہونے پر ہمارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں دیکھو یسعیا ے بر میام تواریخ دوم زبور چهارم و امثال و اسی طرح لوقا و لوقا لوقا و مرقس 1 اور پیدائش ۷ کتاب ایوب ۱۷ ۱۵ ۲۴ ا۔ ۲۵ و ۲۸