جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 502

جنگ مقدّس — Page 222

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۰ جنگ مقدس اس رحم کے لئے گناہ اور غفلت اور تقصیر داری بطور روک کے نہیں ہو سکتی اور اگر ہو تو ایک دم بھی انسان کی زندگی مشکل ہے پھر جب کہ یہ سلسلہ رحم کا بغیر شرط راستبازی اور معصومیت اور نیکوکاری انسانوں کی دنیا میں پایا جاتا ہے اور صریح قانون قدرت اس کی گواہی دے رہا ہے تو پھر کیونکر اس سے انکار کر دیا جاوے اور اس نئے اور خلاف صحیفہ فطرت کے عقیدہ پر کیونکر ایمان لایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم انسانوں کی راستبازی سے وابستہ ہے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف کے کئی مقامات میں نظیر کے طور پر وہ آیات پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر سلسلہ رحم کا نہایت وسیع دائرہ کے ساتھ تمام مخلوقات کو مستفیض کر رہا ہے چنانچہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَرَ ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ | دَابَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَاتْكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا ا س ۱۳ ، ۱۷ ۔ پھر فرماتا ہے۔ وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ کے اور پھر فرماتا ہے۔ وَهُوَ الَّذِئ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا ، اور پھر فرماتا ہے۔ وَاللهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا " ان تمام آیات سے خدا تعالیٰ نے (۱۲۷) اپنی کلام کریم میں صاف قانون قدرت کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس کا رحم بلا شرط ہے کسی کی راستبازی کی شرط نہیں ہاں جرائم کا سلسلہ قانون الہی کے نکلنے سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ آپ خود مانتے ہیں اور اسی وقت عدل کی صفت کے ظہور کا زمانہ آتا ہے گو عدل ایک ازلی صفت ہے مگر آپ اگر ذرہ زیادہ غور کریں گے تو سمجھ جائیں گے کہ صفات کے ظہور میں حادثات کی رعایت سے ضرور تقدیم تاخیر ہوتی ہے پھر جب کہ گناہ اس وقت سے شروع ہوا کہ جب کتاب الہی نے دنیا میں نزول فرمایا اور پھر اس نے خوارق و نشانوں کے ساتھ اپنی سچائی بھی ثابت کی تو پھر رحم بلا مبادلہ کہاں رہا کیونکہ رحم کا سلسلہ تو پہلے ہی ا ابراهیم ۳۳ تا ۳۵ النحل : 1 النحل: ۱۵ النحل : ٦٦