جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 502

جنگ مقدّس — Page 218

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۶ جنگ مقدس چہارم ۔ میں نے کل بھی عرض کیا تھا کہ دکھ تین قسم کے ہیں یعنی ایک وہ جس کو سزا ئیہ کہتے ہیں ۔ جس کے معنے معاوضہ ہرجانہ کے ہیں اور جس کی حد یہ ہے کہ جب تک وہ ہرجہ ادا نہ ہو ہرجہ رساں کی رہائی بھی نہ ہو۔ دوسری قسم مصقل سکھ کی ہے جس سے میری مراد یہ ہے کہ محتاج بالغیر علم کسی شے کا بغیر مقابلہ ضد اس کی کے۔ صاف نہیں پاتا۔ جیسا کہ اندھاما در زاد سفیدی کو تو نہیں جانتا مگر تاریکی کو بھی بخوبی نہیں پہچانتا۔ گو وہ ہمیشہ اسکے سامنے ہے ۔ ایسا ہی اگر آدمی کو بہشت میں بھیجا جائے اور مقابلہ کے واسطے اس نے کبھی دکھ نہ دیکھا ہو تو بہشت کی قدر و عافیت نہیں جانتا۔ تیسرا دکھ امتحان کا ہے یعنی اعمال بالقوہ کو بفعل لوانے کے واسطے با ختیار اس شخص کے کہ جس کے وہ فعل ہیں ضرور ہے کہ اس کو ایسی دوشے کے درمیان رکھا جائے جو مساوی یک دگر ہوں وضد فی الحاصل در آن واحد ہوں کہ جن میں سے احدی کا رد یا قبول کرنا بغیر تو ڑ اور دکھ کے نہیں ہو سکتا ۔ اگر یہ تین اقسام صحیح ہیں تو آپ کا کیا حق ہے کہ جو جاندار دنیا میں دیکھ پاتے ہیں ان کے دکھ کو سزا ئیہ ہی قرار دیں ۔ پنجم ۔ جناب کا اس امر کا نہ سمجھنا کہ مسیح میں خصوصیت ظہور کی کیا ہے جبکہ ہر شے مظہر الہی ہے اس کا جواب عرض کرتا ہوں کہ خصوصیت یہ ہے کہ مسیح کے علاقہ سے اللہ تعالیٰ نے (۱۳۳) کفارہ کا کام پورا کرایا۔ خدا تعالٰی دُکھ اٹھانے سے بری مطلق ہے۔ مخلوق سب کا بوجھ اٹھا کر باقی نہیں رہ سکتا۔ یہاں پر خدا تعالیٰ نے یہ کیا کہ پاک انسان نے سب بوجھ اپنے سر پر اٹھایا اور اقنوم ثانی الوہیت کے لئے اس کو اٹھوایا اور یوں وہ دکھ پناہ ہوا کیونکہ اس موقعہ پر مقابلہ رو با بدروان سزا کا ساتھ ازلی و ابدی اقنوم ثانی کے ہوا۔ یہ خصوصیت مظہریت کی اور کہاں ہے ۔ آپ ہی اس کو دکھلاویں اور اس خصوصیت کو مسیح میں ہماری زبانی آپ قبول نہ کریں مگر تا وقتیکہ بائبل کو آپ رد نہ کریں تو آپ کا حق نہیں کہ اس پر عذر کریں کہ کیا مسیح کا معجزہ ہی پیدا ہونا ، مارا جانا ، جی اٹھنا اور صعود کرنا آسمان پر ۔ ان کے