جنگ مقدّس — Page 219
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۷ جنگ مقدس بھی کچھ معنے ہیں یا نہیں جناب ہی فرماویں اور جبکہ لکھا ہے کہ خون بہانے بدوں نجات نہیں عبرانی و احبار اے اور کہ ساری قربانیاں توریت کی اسی پر ایما کرتی ہیں اور پھر لکھا ہے کہ آسمان کے نیچے دوسرا نام نہیں دیا گیا کہ نجات ہو اعمال ۔ ان سب باتوں کے جناب کچھ معنے فرمادیں اور ایسے ہی سرسری ہے جواب گزر نہ فرمادیں۔ ششم ۔ جناب جو پوچھتے ہیں کہ مظہر اللہ مسیح بعد نزول روح القدس کے ہوئی یا ما بعد اسکے ۔ ہمارا اس جگہ پر جواب قیاسی ہے۔ روح القدس کے نازل ہونے کے وقت ہوئی کلام الہی میں اس کا وقت کوئی معین نہیں ہوا۔ خصوصیت کا انحصال آگے اور پیچھے مظہر اللہ ہونے پر کیا ہے جناب نے اِس امر کو مشرح نہیں فرمایا۔ اسی لئے ہم اور زیادہ جواب نہیں دے سکتے ۔ ہفتم ۔ اگر چہ ہر سہ قانیم کا مجسم ہونا آپ نے بہت صحیح نہیں فرمایا لیکن تاہم مجسم ہونے سے وہ وزنی ہو جاتے ہیں جیسا کہ آپ نے یہ کہا ہے کہ برائے مثال ہر ایک تین تعین سیر کا اقنوم ہو تو جملہ اس کا نوسیر ہوتا ہے ہشتم ۔ توحید فی التثلیث کی تعلیم میں ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ایک ہی صورت میں واحد اور ایک ہی صورت میں تثلیث ہے بلکہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایک صورت میں ایک اور دوسری صورت میں تین ہیں ۔ اور جب ہم نے عرض کیا کہ ان تین میں اس قسم کا علاقہ ہے کہ جیسے بے نظیری بے حدی سے نکل کر زمان و مکان دوسرا نہیں چاہتے تا ہم ان دو صفات کی تعریف علیحدہ علیحدہ ہے اور یہ دونوں صفات ایک جیسی ہیں ایسا ہی اقانیم کی صورت ہے کہ ایک قائم فی نفسہ ہے اور دو لازم ملزوم ساتھ اس ایک کے اس کے سمجھنے کے واسطے آپ اس بیان پر بھی توجہ فرما دیں کہ انتقام جوئی وصلح جوئی شخص واحد (۱۳۴) سے آنِ واحد میں محال مطلق ہے حالانکہ اگر گناہگار کی مغفرت ہو تو یہ ہر دو یکساں چلتے ہیں اور ایک اقنوم سے یہ ادا نہیں ہو سکتی اس سے لازم آتا ہے کہ کم از کم دوا قانیم ہونے چاہئیں۔ وقت کم ہے بے نظیری کی ہم تعریف کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ بے نظیری مطلق وہ شے