جنگ مقدّس — Page 217
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۵ جنگ مقدس مقتول جی اٹھتا ہے۔ اور اگر قاتل کو پھانسی دیں گے تو مقتول کو اس سے کیا ہے ۔ خدا وند کی عدالت ایسی نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب تک وہ ہرجہ گناہ واپس نہ ہو معاوضہ کی سزا سے بھی رہائی نہ ہووے۔ دوم ۔ جو آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم نے معافی کا کیا طریق ٹھہرایا ہے۔ اول تو آپ کا یہ کہنا ہی جائز نہیں اس لئے کہ واحد خدا کی یہ ہر دو کلام ہو کر متبائن طریقہ نہیں بتا سکتی کہ اعمال حسنہ ادائے قرضہ کی صورت ہیں کیونکہ یہ فرض عین ہے کہ ہم اعمال حسنہ کریں لیکن یہ بڑی ایک تعجب کی بات ہے کہ ادائے جزو کو کل پر حاوی تصور کر کے وہ قرضہ بیباق سمجھا جاوے جیسا کہ ایک شخص کو سو روپیہ کسی کے دینے ہیں اور اس میں سے پچیس روپیہ دے کر یہ کہے کہ تیرا حساب بیباق ہوا۔ کوئی عقلمند اس امر کو مانے گا کہ ادائے جز کا حاوی برکل ہے لہذا اعمال حسنہ کا ذکر آپ تب تک نہ کریں جب تک آپ یہ نہ ثابت کر لیں کہ کوئی اعمالوں کے ذریعہ سب قرضہ ادا کر سکتا ہے یعنی بے گناہ مطلق رہ سکتا ہے۔ تو بہ اور ایمان بیرونی پھاٹک نجات کے ضرور ہیں جیسا کہ کوئی بغیر ان کے نجات میں داخل نہیں ہوسکتا لیکن پھاٹک اندرونہ شے کا نہیں ہوسکتا کیا اگر ہم ایک مکھی کو مار کر سوتو بہ کریں وہ جی اُٹھتی ہے اور ایمان کی بابت میں اگر ہم (۱۳۲) ایمان لاویں کہ خدائے قادر اس کو پھر جلا دے سکتا ہے یہ کچھ امکان سے بڑھ کر وقوعہ ہو جاتا ہے۔ محبت و عشق فرائض انسانی میں ہیں ان کا ذکر اعمال حسنہ میں آچکا۔ اور ضرور نہیں۔ سوم ۔ یہ آپ صریح غلط فرماتے ہیں کہ قانون قدرت خدا تعالیٰ کا کہ رحم بلا مبادلہ قدیم سے جاری ہے۔ ہماری فطرت میں اِس امر کو صداقت اولی کر کے ثبت کیا گیا ہے کہ جو کسی کا کوئی ہرجہ کریگا اس کو معاوضہ اس کا دینا پڑیگا ۔ مخلوق کا ہر زمان اطاعت اللہ کے واسطے رکھا گیا ہے اور وہ بغاوت میں اگر گناہ کے کئے تو اس وقت کا ہرجہ اس کو بھرنا پڑے گا ۔ اور اس کا معاوضہ یہی ہے کہ رو با بد رواں سزا میں گرفتار رہے ۔