جنگ مقدّس — Page 205
روحانی خزائن جلد ۶ جنگ مقدس ظہور خاص کسی جگہ سے کسی طرح سے کرے ۔ تو اس میں دوسری روح کے مقید ہونے کی جیم سیح میں کونسی ایما ہے اور خالی خدا سے ہونے پر کونسی ایما ہے۔ یہ تو معقولی مسئلہ ہے محتاج (۱۰) کتاب کا نہیں اس میں آپ کس لئے اسکتے ہیں۔ سوم ۔ وہ جو جناب لطیف ضدی کے بارہ میں کشش وزن کی فرماتے ہیں تو اس کشش سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو جناب کثیف ٹھہراتے ہیں اور ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالی کی ذات کثیف ہے لہذا اس میں وزن کیونکر ہو کیونکہ وزن نام کشش کا ہے اور کشش متعلق کثافت کے ہے ۔ آپ ہمارے مسئلہ کثرت فی الوحدت کو سمجھے نہیں کیونکہ ہم ماہیت کو تقسیم نہیں کرتے گوا قا نیم کو مخلوط یک دیگر بھی نہیں کرتے ۔ مثال ہماری کثرت فی الوحدت کی یہ ہے کہ جیسے صفت بے نظیری کی بے حدی سے نکلتی ہے اور نکلنا اس کا زمان و مکان کا کچھ فرق نہیں کرتا بلکہ ایک صورت میں وہ ہر دو ایک ہی رہتے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ہوتی ایسا ہی تین اقانیم میں اقنوم اولی قائم فی نفسہ ہے۔ اور دو اقانیم ما بعد کے اس ایک کے لازم و ملزوم ہیں آپ تین اقانیم کا وزن تین جگہ کس طرح تقسیم فرماتے ہیں۔ لطیف ضدی کے ساتھ وزن کا علاقہ کیا ہے۔ لطیف ضدی ہم اس کو کہتے ہیں جو عین ضد کثافت پر ہو نہ اس کو جو نسبت ایک کی دوسرا لطیف ہو جیسے مٹی کی نسبت پانی اور پانی کی نسبت ہوا اور ہوا کی نسبت آگ یہ ساری لطیف نسبتی ہیں اور فی الواقع کثیف ہی رہتے ہیں۔ کلام الہی کے بیان کو آپ صرف دعوے فرماتے ہیں اور اس کے ثبوت کے واسطے دلیل اور طلب کرتے ہیں تو اس سے یہ مراد آپ کی معلوم ہوتی ہے کہ آپ بابت عقیدہ کلام الہی کے بیا تو منذ بذب ہیں و یا مطلقا یقین نہیں رکھتے۔ یہ امر طے ہولے تو ہم اس کا بھی جواب دیں گے۔ چہارم ۔ وہ رحم جو بلا مبادلہ کی دلیل پر جناب نے فرمایا ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ جیسا رحم بلا مبادلہ فرماتا ہے ویسا ہی قہر بھی بلا مبادلہ فرماتا ہے۔ چنانچہ وہ جانور معصوم ہو کر مارے جاتے ہیں کوئی کسی کی معیشت کے واسطے اور کوئی اور طرح پر ۔ جواب ساری شکایت اس امر میں دکھ کے اوپر ہے اور دکھ ہماری نظر میں تین قسم کے ہیں یعنی ایک وہ جو سزائیہ ہے۔ دوسرا وہ جو مصقل سکھ کا ہے۔ تیسرا وہ جو سامان امتحان کا ہے۔ تو جب آپ حیوانوں کے دکھ سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں یہ قہر