جنگ مقدّس — Page 206
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۴ جنگ مقدس بلا مبادلہ یا بلا وجہ ہے خیال فرمائیے کہ آپ کس قدر غلط ہیں ۔ جو تین اقسام کو ایک ایک قسم سزا میں ڈال دیتے ہیں اور ماسوا اس کے جو آپ فرماتے ہیں کہ قہر بھی بلا وجہ ہو سکتا ہے اور رحم بھی بلا وجہ تو خدائے مقدس کی خدائی یہ نہ ہوئی بلکہ دہریت کی اندھیر گردی ہوئی۔ پنجم ۔ خداوند مسیح نے ضرور کہا ہے کہ تم گناہوں کو معاف ہی کرتے رہو جو تمہارے برخلاف کریں اور انتقام نہ لولیکن کلام انجیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ تم انتقام نہ لو۔ کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ انتقام لینا میرا کام ہے۔ اور چونکہ گناہوں کی اقسام کو کتنی ہی بیان ہوں مگر دراصل گناہ صرف خدا کے برخلاف ہوتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ تم انتقام نہ لو اور ضرورت ہوگی تو میں انتقام لوں گا۔ تو بھی اس میں تعلیم کفارہ کے برخلاف کیا ہوا جس کا گناہ کیا گیا اسی نے ہر ایک کو منتقم اور حج اس کا نہیں بنایا۔ ششم ۔ دنیا وی عدالت نہ حقیقی عدالت کا نام ہے بلکہ محض نظامت کا نام کیونکہ ہرجہ کو واپس نہیں لاتی مگر جرائم کو رو بہ تنزل کرتی ہے۔ اور نہ دنیاوی شفاعت شفاعت کا نام ہے بلکہ ایک مہلت طلبی کا نام ہے کیونکہ خدا وند کو اختیار ہے کہ گناہگار کو اس کے گنا ہوں میں یہاں ہی کاٹ ڈالے لیکن اپنے محبوبوں کی درخواست پر وہ مہلت تو بہ کی بخش سکتا ہے۔ جو شفیع منصبی نہیں ہیں ان کا جواب ہم ادا کر چکے ہیں مگر بموجب اذن خدا کے مہلت بخشوانے کی شفاعت ہو سکتی ہے کہ مہلت بخشی جاوے کہ توبہ کرلے ۔ فرائض ہمارے نزد یک دو ہی قسم کے اقسام ما تحت میں ہیں لیکن اصل میں ایک ہی قسم ہے جیسا کہ داؤد نبی فرماتا ہے کہ میں نے تیرا ہی گناہ کیا ۔ پس حق العباد کا گناہ تو اسمیں آگیا لیکن فطرتی گناہ شاید آپ موروثی گناہ کو فرماتے ہیں لیکن گناہ موروثی کے بارہ میں ہماری غرض یہ ہے کہ آدم کے گناہ میں گرنے کے باعث آدمزاد کا امتحان سخت تر ہو گیا کہ جسم میں تکالیف پیدا ہوئیں اور موت ڈراؤنی ٹھہر گئی ۔ ان معنوں کر کے اس کو آدم کا گناہ کہا جاتا ہے ورنہ جیسا آپ نے حز قیل نبی کا حوالہ دیا وہی صحیح ہے کہ جو روح گناہ کرے گی وہی مرے گی ۔ باپ دادوں کے انگور کھٹے کھائے ہوئے اولاد کے دانت کھٹے نہیں کریں گے۔