جنگ مقدّس — Page 204
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۲ از طرف ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب ۳۰ رمئی ۱۸۹۳ء میں آپ کے طرز جواب پر کچھ اعتراض کرتا ہوں۔ جنگ مقدس یہ جو آپ فرماتے ہیں کہ رحم بلا مبادلہ کا مقدمہ سراسر ثبوت الوہیت مسیح کے اوپر مدار رکھتا ہے جس کو تم نے ثابت نہیں کیا۔ میری طرف سے عرض ہے کیا ثبوت آپ مجھ سے طلب فرماتے ہیں۔ میں تو عرض کر چکا ہوں کہ ہم تو اس مسیح کو جو مخلوق اور مرئی ہے اللہ نہیں کہتے مگر مظہر اللہ کہتے ہیں اور اس بارہ میں دو امر کا ثبوت چاہیے یعنی ایک امکان کا دوسرا وقوعہ کا اور کہ امکان ہم دلائل عقلی سے ثابت کرتے ہیں اور وقوعہ اس کا کلام الہی سے۔ پھر اور کیا آپ چاہتے ہیں وہ ہم پر ظاہر ہونا چاہیے امکان پر ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ کیا خدا قادر نہیں کہ اس ستون میں سے جو مٹی واینٹوں کا بنا ہے جواب دیوے۔ کیا چیز مانع اس کے ایسے کرنے کا اس میں ہو سکتی ہے یعنی کون صفت الہی اس میں کٹتی ہے۔ اس کا دکھلانا جناب کے ذمہ تھا جواب تک ادا نہیں ہوا۔ جیسا میں نے ستون کی مثال دی۔ ویسا ہی مخلوق میں سے بھی ظہور اس کا ہونا ممکن ہے۔ اور وہ جو بابت وقوعہ کے ہے اسکے واسطے ہم نے کلام کی آیات دی ہیں اگر آپ کو اس کتاب سے انکار ہے کہ یہ الہامی نہیں تو یہ دیگر بات ہے اور اگر ہم نے صحیح حوالہ نہیں دیا۔ تو اس کا مواخذہ ہم سے فرمائیے مگر کلام کو بھی تسلیم کرنا کہ یہ الہامی ہے اور حوالوں کو صرف اتنا ہی فرما کر گرا دینا کہ کچھ نہیں یہ درست نہیں۔ دوم ۔ وہ جو جناب نے استفسار کیا ہے کہ وجود مسیح میں آیا دور دھیں تھیں یا ایک ۔ اور ایک وجود میں دو روحیں کس طرح سے رہتی ہیں۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ مخلوق کامل مسیح میں ایک روح کامل تھی لیکن خدا تعالیٰ اپنی ہستی سے بہت اس کے بے حد ہے ہر جگہ اندرو باہر موجود ہے۔ اور مظہر اللہ ہونے کے معنے یہ ہیں کہ اپنا