جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 502

جنگ مقدّس — Page 184

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۲ جنگ مقدس دوسرے نبیوں کے معجزات سے مشابہ ہوں بلکہ اُن سے کسی قدر کم ہوں بوجہ اُس تالاب کے قصہ کے جو ڈاکٹر صاحب کو خوب معلوم ہو گا جس میں غسل کرنے والے اسی طرح طرح طرح کی بیماریوں سے اچھے ہو جایا کرتے تھے جیسا حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے اور پھر ایک طرف گھر میں ہی پھوٹ پڑی ہوئی ہو ایک صاحب حضرات عیسائیوں میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں۔ اور دوسرا فرقہ ان کی تکذیب کر رہا ہے ادھر یہودی بھی سخت مکذب ہوں اور عقل بھی ان نا معقول خیالات کے مخالف ہو اور پھر وہ آخری نبی جس نے صد با دلائل اور نشانوں سے ثابت کر دیا ہو کہ میں سچا نبی ہوں تو پھر با وجود اس قدر مخالفانہ ثبوتوں کے ایک خاص فرقہ کا خیال اور وہ بھی بے ثبوت کہ ضرور حضرت مسیح خدا ہی تھے کس کام آسکتا ہے اور کسی عزت دینے کے لائق ہے اسی بنا پر میں نے کہا تھا کہ جس حالت میں اس قدر حملے بالا تفاق آپ کے اس عقیدہ پر ہو رہے ہیں تو اب حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کے لئے آپ کو کوئی ایسا ثبوت دینا چاہیے جس کے اندر کوئی ظلمت اور تاریکی نہ ہو اور جس میں کوئی اختلاف نہ کر سکتا ہو مگر آپ نے اس طرف توجہ نہ کی اور آپ فرماتے ہیں جو پیشگوئیاں ہم پیش کرتے ہیں وہ دلائل ہیں دعاوی نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آپ انصافاً سوچیں کہ جس حالت میں ان پیشگوئیوں کے سر پر اس قدر مکذب اور مخالف کھڑے ہیں اور خود وہی لوگ ان کے معنے وہ نہیں مانتے جو آپ کرتے ہیں جو وارث عہد عتیق کے تھے اور آپ کا خانگی اتفاق بھی نہیں پایا جاتا تو پھر وہ دعاوی ہوئے یا کچھ اور ہوئے یعنی جبکہ وہ آپ کے فرقوں میں خود متنازعہ فیہ امر ٹھہر گیا تو اوّل یہودیوں سے فیصلہ کیجئے پھر یونی میرنوں سے فیصلہ کیجئے اور پھر جب سب اتفاق کرلیں کہ آنے والا مسیح موعود خدا ہی ہے تو پھر مسلمانوں پر حجت کے طور پر پیش کیجئے اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہمارے لئے نشانوں کی ضرورت نہیں نشان پہلے زمانوں سے خاص ہوتے ہیں جب ایک مدعا ثابت ہو گیا تو پھر نشانوں کی کیا حاجت۔ میں کہتا ہوں اگر یہ ثابت شدہ امر ہوتا تو اتنے جھگڑے ہی کیوں پڑتے کیوں آپ کے فرقہ میں سے ان پیشگوئیوں کے ان معنوں کی تکذیب کرنے کیلئے موجود ہوتے پھر جبکہ ان پیشگوئیوں کی نہ