جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 502

جنگ مقدّس — Page 183

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۱ جنگ مقدس لکھنے کی حاجت نہیں مگر سب سے بڑھ کر حضرت مسیح کا اپنا اقرار ملاحظہ کے لائق ہے وہ فرماتے ہیں۔ سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن وہ خداوند جو ہما را خدا ہے ایک ہی خدا ہے ۔ پھر فرماتے ہیں حیات ابدی یہ ہے کہ دے تجھ کو اکیلا سچا خدا اور یسوع مسیح کو جسے تم نے بھیجا ہے جانیں۔ یوحنا سکا۔ اور بھیجا کا لفظ توریت کے کئی مقام میں انھیں معنوں پر بولا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو مامور کر کے اور اپنا نبی ٹھہرا کر بھیجتا ہے تو اُس وقت کہا جاتا ہے کہ یہ وہ بندہ بھیجا گیا ہے اگر ڈاکٹر صاحب یہ بھیجا گیا کا لفظ بجز اس معنے کے جہاں نبی کی نسبت بولا جاتا ہے مقام متنازعہ فیہ کے ماسوا کسی اور جگہ دوسرے معنوں پر ثابت کر دیں تو شرط کے طور پر جو چاہیں ہم سے وصول کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب پر واضح رہے کہ بھیجا گیا کا لفظ اور ایسا ہی مخصوص کا لفظ انسان کے بارہ میں آیا ہے یہ سراسر تحکم ہے کہ اب اس کے اور معنے کئے جاویں ماسوا اس کے حضرت مسیح کی الوہیت کے بارہ میں اگر حضرات عیسائی صاحبوں کا اصول ایمانیہ میں اتفاق ہوتا اور کوئی قوم اور فرقہ اُس اتفاق سے باہر نہ ہوتا تو تب بھی کسی قدر ناز کرنے کی جگہ تھی مگر اب تو اتنی بات بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب فرماویں کہ کیا آپ کے مختلف فرقوں میں سے یونی ٹیرین کا فرقہ حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے کیا وہ فرقہ اسی انجیل سے تمسک نہیں کرتا جس سے آپ کر رہے ہیں۔ کیا وہ فرقہ ان پیشگوئیوں سے بے خبر ہے جن کی آپ کو خبر ہے ۔ پھر جس حالت میں ایک طرف تو حضرت مسیح اپنے کفر کی بریت ثابت کرنے کے لئے ۔ یوحنا باب ۱۰ میں اپنے تئیں خدا اطلاق پانے میں دوسروں کا ہمرنگ قرار دیں اور اپنے تئیں لاعلم بھی قرار دیں کہ مجھے قیامت کی کچھ خبر نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی روا نہ رکھیں کہ انکو کوئی نیک کہے اور جابجا یہ فرمادیں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور حواریوں کو یہ نصیحت دیں کہ پیشگوئیاں وغیرہ امور کے وہی معنے کرو جو (91) یہودی کیا کرتے ہیں اور اُن کی باتوں کو سنو اور مانو اور پھر ایک طرف مسیح کے معجزات بھی حمد " مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹ “۔ (ناشر)