جنگ مقدّس — Page 185
۱۸۳ جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صحت ثابت نہ ادعاء حضرت مسیح ثابت اور نہ ان کے خاص معنوں پر اتفاق ثابت تو پھر کیونکر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دلائل ہیں اور یہ بھی آپ کو یا در ہے کہ آپکا یہ فرمانا کہ نشان اسی وقت تک (۹۲) ضروری تھے جو حواریوں کا زمانہ تھا اور حواری اس کے مخاطب تھے یہ اس دوسری دلیل سے بھی خلاف واقعہ ٹھہرتا ہے کہ اگر کسی امر میں جواریوں کو مخاطب کرنا اس امر کو انھیں تک محدود کر دینا ہے تو پھر تو اس صورت میں ساری انجیل ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ تمام اخلاقی تعلیم جو حضرت مسیح نے کی اس کے مخاطب حواری تھے اب آپ کو خوب موقعہ مل سکتا ہے کہ ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا بھی پھیر دیں کیونکہ یہ تو حواریوں کے حق میں کہا گیا تھا اور آپکا یہ فرمانا کہ رامچند راور کرشن سے حضرت مسیح کو کیا نسبت ہے اور کیا اگر دس آدمی ایک دعوی کریں تو ان میں سے ایک سچا نہیں ہوسکتا مجھے افسوس ہے کہ آپ نے یہ کیا لکھایا میرا تو مطلب صرف اتنا تھا کہ اگر صرف دعوے سے انسان سچا ہوسکتا ہے تو دعوے کرنے والے تو دنیا میں اور بھی ہیں پس اگر ان میں سے کوئی سچا ہے تو چاہیے کہ اپنی سچائی کے دلائل پیش کرے اور نہ ہمیں یا آپ کو دس دعوی کرنے والوں میں سے ایک کو بغیر دلیل کے خاص کر لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا یہی تو میں بار بار کہتا ہوں اور لکھتا ہوں کہ حضرت مسیح کی الوہیت پر ابھی تک آپ نے کوئی معقولی دلائل پیش نہیں کئے اور منقولی پیشگوئیاں جو آپ بار بار پیش کر رہے ہیں وہ تو کچھ بھی چیز نہیں ہیں خود امور متنازعہ فیہا ہیں جن کے آپ کچھ معنے کرتے ہیں یونی شیرین کچھ کرتے ہیں یہودی کچھ کرتے ہیں اہل اسلام کچھ کرتے ہیں ۔ پھر قطعیۃ الدلالت کیوں کر ٹھہر جاویں اور آپ جانتے ہیں دلیل اس کو کہتے ہیں جو قطعیۃ الدلالت اور فی نفسہ روشن اور بد یہی ہو اور کسی امر کی مثبت ہو نہ کہ خود محتاج ثبوت ہو کیونکہ اندھا اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا اور پھر میں اپنی پہلی بات کا اعادہ کر کے لکھتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ اس پر آشوب دنیا میں انسان ہمیشہ تسلی اور معرفت تامہ کا محتاج ہے اور ہر ایک شخص یہی چاہتا ہے کہ جن دلائل کو تسلیم کرانا چاہتا ہے وہ ایسی شافیہ اور کا فیہ دلائل ہوں کہ کوئی جرح ان پر دارد نہ ہو سکے اور خود ایک طالب حق جب اپنی موت کو یاد کرتا ہے اور در حالت بے دین و گمراہ