جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 502

جنگ مقدّس — Page 125

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۳ جنگ مقدس کیا جائے تو ڈپٹی صاحب کمال کے لفظ پر گرفت فرماتے ہیں کہ کمال کیا چیز ہے کیا سنار اور لوہار (۳۸) کا کمال بلکہ راہ نجات دکھلانے کا کمال ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ راہ نجات دکھلانے کا دعوی اس صورت میں اور اس حالت میں کمال متصور ہوگا کہ جب اس کو ثابت کر کے دکھلا دیا جاوے اور پہلے اس سے اس بات کا ذکر کرنا بھی میرے نزدیک بے محل ہے۔ اب واضح ہو کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعویٰ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي الخ کہ آج میں نے تمہارے لئے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا ۔ اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے الَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينِ بِإِذْنِ رَبَّهَا وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ، وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ اجْتَقَتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ ۔ (س۱۳ (۱۶) کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں ۔ اور نا پاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جوزمین پر سے اُکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار وثبات نہیں۔ سو اللہ تعالٰی مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرنا کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو۔ اب دیکھیے کہ ڈیٹی صاحب موصوف نے آیت اَكْمَلْتُ لَكُمُ کی تشریح میں صرف اتنا فر مایا تھا۔ کہ یہ غالباً امور معاشرت کے متعلق معلوم ہوتی ہے لیکن ڈپٹی صاحب موصوف اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہیے کہ الہامی کتاب آپ کرے اور الہامی کتاب کی شرح المآئدة: ۲۴ ابراهیم: ۲۵ تا ۲۸