جنگ مقدّس — Page 126
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۴ جنگ مقدس دوسری شرحوں پر مقدم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔ اول یہ کہ اصلها ثابت یعنی اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور في حد ذاتہ یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ ارض کے لفظ سے اس جگہ فطرت انسانی مراد ہے جیسا کہ من فوق الارض کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے اور ڈپٹی صاحب اس سے انکار نہیں کریں گے ۔ خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہ ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرت کے موافق ہوں۔ پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ فرعها في السماء یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یعنی صحیفہ قدرت کو غور کی نگاہ سے مطالعہ کریں تو اس کی صداقت ان پر کھل جائے ۔ اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم یعنی فروعات اس تعلیم کے جیسے اعمال کا بیان۔ احکام کا بیان ۔ اخلاق کا بیان یہ کمال درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں جس پر کوئی زیادہ متصور نہ ہو۔ جیسا کہ ایک چیز جب زمین سے شروع ہو کر آسمان تک پہنچ جائے تو اس پر کوئی زیادہ متصور نہیں۔ پھر تیسری نشانی کمال کی یہ فرمائی کہ تؤتى اكلها كل حسین ہر ایک وقت اور ہمیشہ کے لئے وہ اپنا پھل دیتا رہے ایسا نہ ہو کہ کسی وقت خشک درخت کی طرح ہو جاوے جو پھل پھول سے بالکل خالی ہے۔ اب صاحبود دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمودہ الیوم اکملت کی تشریح آپ ہی فرما دی کہ اس میں تین نشانیوں کا ہونا از بس ضروری ہے ۔ سوجیسا کہ اس نے یہ تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں اسی طرح پر اس نے ان کو ثابت کر کے بھی دکھلا دیا ہے اور اصول ایمانیہ جو پہلی نشانی ہے جس سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے اس کو اس قدربسط سے قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اگر میں تمام دلائل لکھوں تو پھر چند جزو میں بھی ختم نہ ہوں گے مگر تھوڑا سا ان میں سے بطور نمونہ کے ذیل میں لکھتا ہوں جیسا کہ ایک جگہ یعنی سیپارہ دوسرے سورۃ البقر میں فرماتا ہے ۔ ان فِى خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَّا فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ