جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 502

جنگ مقدّس — Page 116

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۴ جنگ مقدس پیش نہ ہو۔ مثلاً جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ نوع انسان کی تمام جزئیات کا تنتبع جہاں تک حد امکان میں ہیں ہو کر یہ امر مسلم الثبوت قرار پاچکا ہے کہ انسان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں تو اب یہ دو آنکھیں ہونے کا مسئلہ اس وقت تک قائم اور برقرار سمجھا جائے گا جب تک اس کے مقابل پر مثلاً چار یا زیادہ آنکھوں کا ہونا ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس بنا پر میں نے کہا تھا کہ اللہ جل شانہ کی یہ دلیل معقولی که قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ جو بطور استقراء کے بیان کی گئی ہے یہ ایک قطعی اور یقینی دلیل استقرائی ہے۔ جب تک کہ اس دلیل کو تو ڑ کر نہ دکھلایا جائے اور یہ ثابت نہ کیا جائے کہ خدا تعالی کی رسالتوں کو لے کر خدا تعالیٰ کے بیٹے بھی آیا کرتے ہیں اس وقت تک حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جل شانہ اس دلیل میں صاف توجہ دلاتا ہے کہ تم مسیح سے لے کر انبیاء کے انتہائی سلسلہ تک دیکھ لو جہاں سے سلسلہ نبوت کا ۳۰ شروع ہوا ہے کہ بجز نوع انسان کے کبھی خدا یا خدا کا بیٹا بھی دنیا میں آیا ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ آگے تو نہیں آیا مگر اب تو آ گیا تو فن مناظرہ میں اس کا نام مصادر علی المطلوب ہے یعنی جو امر متنازعہ فیہ ہے اسی کو بطور دلیل پیش کر دیا جائے مطلب یہ ہے کہ زیر بحث تو یہی امر ہے کہ حضرت مسیح اس سلسلہ متصلہ مرفوعہ کو توڑ کر کیونکر بحیثیت ابن اللہ ہونے کے دنیا میں آگئے اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت آدم نے بھی اپنی طرز جدید پیدائش میں اس سلسلہ معمولی پیدائش کو توڑا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم تو خود اس بات کے قائل ہیں کہ اگر دلائل معقولی سے یا تاریخی سے سلسلہ استقراء کے مخالف کوئی امر خاص پیش کیا جائے اور اس کوا دلہ عقلیہ سے یا ادلہ تاریخیہ سے ثابت کر کے دکھلا دیا جائے تو ہم اس کو مان لیں گے یہ تو ظاہر ہے کہ فریقین نے حضرت آدم کی اس پیدائش خاص کو مان لیا ہے گویاوہ بھی ایک سنت اللہ طرز پیدائش میں ثابت ہو چکی ہے جیسا کہ نطفہ کے ذریعہ سے انسان کو پیدا کرنا ایک سنت اللہ ہے اگر حضرت مسیح کو حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ مشابہ کرنا ہے اور اس نظیر سے فائدہ اٹھانا مد نظر ہے تو چاہیے کہ جس طرح پر اور جن دلائل عقلیہ سے انتہائی سلسلہ نوع انسان کا حضرت آدم کی پیدائش خاص تسلیم کی گئی ہے اسی طرح پر حضرت مسیح کا ابن اللہ ہونا یا خدا ہونا اور سلسلہ سابقہ مشہودہ مثبتہ کو ل المآئدة : 24