جنگ مقدّس — Page 117
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۵ جنگ مقدس تو ڑ کر بحیثیت خدائی و ابنیت خدا تعالیٰ دنیا میں آنا ثابت کر دکھلاویں پھر کوئی وجہ انکار کی نہ ہوگی کیونکہ سلسلہ استقراء کے مخالف جب کوئی امر ثابت ہو جائے تو وہ امر بھی قانون قدرت اور سنت اللہ میں داخل ہو جاتا ہے سو ثابت کرنا چاہیے ۔ مگر دلائل عقلیہ سے پھر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب فرماتے ہیں کہ الہام چاہیے کہ اپنی شرح آپ کرے سو واضح ہو کہ اس میں ہمارا اتفاق رائے ہے۔ بیشک الہام صحیح اور بچے کے لئے یہی شرط لازمی ہے کہ اس کے مقامات مجملہ کی تفصیل بھی اسی الہام کے ذریعہ سے کی جائے جیسا کہ قرآن کریم میں یعنی سورہ فاتحہ میں یہ آیت ہے ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم اب اس آیت میں جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کا لفظ ہے یہ ایک مجمل لفظ تھا اور تشریح طلب تھا تو خدا تعالیٰ نے دوسرے مقام میں خود اس کی تشریح کر دی اور فرمایا کہ فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ " ( سیپاره ۶/۵) اور پھر ڈپٹی صاحب موصوف اپنی عبارت میں جس کا خلاصہ لکھتا ہوں یہ فرماتے ہیں کہ الہام الہی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے دعاوی کو دلائل عقلیہ سے ثابت کرے بلکہ اس کے لئے صرف بیان کر دینا کافی ہوگا اور پھر اس کتاب کے پڑھنے والے دلائل آپ پیدا کر لیں گے۔ یہ (۳۱) بیان ڈپٹی صاحب کا اس روک اور حفاظت خود اختیاری کیلئے ہے کہ میں نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ خدا تعالی کی سچی کتاب کی یہ ضروری علامت اور شرط ہے کہ وہ دعوی بھی آپ کرے اور اس دعوی کی دلیل بھی آپ بیان فرما دے تاکہ ہر ایک پڑھنے والا اس کا دلائل شافیہ پا کر اس کے دعاوی کو بخوبی سمجھ لیوے اور دعویٰ بلا دلیل نہ رہے کیونکہ ہر ایک متکلم کا ایک نقص سمجھا جاتا ہے کہ دعاوی کرتا چلا جائے اور ان پر کوئی دلیل نہ لکھے۔ اب ڈپٹی صاحب موصوف کو یہ شرط سن کر یہ فکر پڑی کہ ہماری انجیل اس مرتبہ عالیہ سے خالی ہے اور وہ کسی صورت سے قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بہتر ہے کہ کسی طرح سے اس کو ٹال ہی دیا جائے سو میری دانست میں ڈپٹی صاحب موصوف کا انجیل شریف پر یہ ایک احسان ہے جو آپ اس کی پردہ پوشی کی حمایت میں لگے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ آپ نے ان کلمات کے لکھتے وقت اس بات کی طرف توجہ نہیں فرمائی کہ آپ ایک زمانہ دراز تک اکسٹرا اسٹمنٹ رہ چکے الفاتحة : ٦، النساء : ٧٠