جنگ مقدّس — Page 115
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۳ جنگ مقدس آپ نہیں کی گئیں ۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ ان سب نے مدار نجات کا اسی پر رکھا ہے پھر آ ہی یہ کیونکر فرماتے ہیں کہ مسیح کی صفات اور نبیوں سے بڑھ کر نہیں کی گئیں ۔ کس نبی کے بارہ میں بجز مسیح یہ کہا گیا کہ وہ ہمتائے خدا ہے۔ ذکر یا باب ۱۳۔۷۔ وہ یہوا صد قنو جو تخت داؤدی پر آنے والا ہے سر میاہ باب ۲۳- ۵ و ۶ و ۷ ۔ وہ خدائے قادر ۔ اب ابدیت ۔ شاہ سلامت ہے مشیر مصلح جو تخت داؤدی پر ابد تک سلطنت کرے گا۔ یسعیا ۹-۶ وے تتمتاً بقایا دیروزہ جس میں جناب نے فضیلت کلام انجیل کی پوچھی ہے ملاحظہ فرمائیے یوحنا کے باب ۱۲۔ ۲۸ (۲۹) سے ۵۰ تک۔ انجیل وہ کلام ہے کہ جس کے موافق عدالت سب لوگوں کی ہوگی یعنی کل عالم کی۔ (باقی آئندہ) دستخط دستخط بحروف انگریزی بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان غلام قادر تصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام جواب حضرت مرزا صاحب ۲۴ رمئی ۶۹۳ بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کسی قدر کل کے سوالات کا بقیہ رہ گیا تھا۔ اب پہلے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ مسٹر عبد اللہ آنتقم صاحب مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ استقراء کیا چیز ہے اور استقراء کی کیا تعریف ہے؟ اس کے جواب میں واضح ہو کہ استقراء اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہورہ کا جہاں تک ممکن ہے تنتبع کر کے باقی جزئیات کا انہیں پر قیاس کر دیا جائے۔ یعنی جس قدر جزئیات ہماری نظر کے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک شان خاص اور ایک حالت خاص قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں ای پر تمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کر لیں جب تک کہ ان کے مخالف کوئی اور جزئی ثابت ہو کر