جنگ مقدّس — Page 114
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۲ جنگ مقدس اور سورہ قصص میں یوں لکھا ہے کہ اسی آواز کے بارے میں جو آگ یا جھاڑی میں سے آئی کہ تحقیق میں ہوں رب عالموں کا۔ اور تیسری آیہ ماسوائے ان دو آیات کے جو جناب نے پیش کی ہے یہ جملہ کہ میں ابراہیم و اسحاق و یعقوب کا خدا ہوں یہ فی الواقع توریت میں ہے کہ جس موقعہ کا قرآن میں یہ غلط اقتباس ہوا ہے اتنی میری غلطی مان لیں کہ میں نے توریت کے الفاظ قرآن میں (۲۸) بیان کر دیئے مگر دراصل کچھ فرق نہیں کہ میں تیرا رب ہوں اور رب العالمین ہوں اور اسے جو توریت میں لکھا ہے کہ میں تیرے باپ ابراہیم و اسحاق و یعقوب کا خدا ہوں نہ کم ہیں نہ زیادہ۔ دلیل مظہر اللہ کی اس سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ شے مرئی خدا نہیں ہوسکتا۔ ششم۔ یہ جو جناب فرماتے ہیں کہ یک تن اور یک من یہ ہر دو الفاظ توریت میں پائے نہیں جاتے ۔ بجواب اس کے ہماری عرض ہے کہ ہم نے یہ استنباط کیا تھا یعنی خلاصہ نکالا تھا۔ اگر ایسا ہی آپ گرفت فرما ئیں گے تو یہ وہ فقل ہو جائے گی کہ ایک شخص محمد بخش نامی کو کسی نے کہا تھا کہ تو نماز کیوں نہیں پڑھا کرتا تو اس نے کہا کہ کہاں لکھا ہے محمد بخش نماز پڑھا کرے۔ اب یہ کوئی دلیل نہیں مگر لطیفہ ہے۔ ہفتم ۔ آپ ان الفاظ سے جو مسیح خداوند نے کہے کہ تم اس کو کفر نہیں کہتے ہو جو تمہاری قضات اور بزرگوں کو الو ہیم کہا تب تو مجھ کو ابن اللہ کہنے سے کیوں الزام دیتے ہو۔ یہودی لوگوں سے خداوند مسیح اپنے آپ کو کہتے تھے کہ میں بیٹا خدا کا ہوں تو سنگسار کرنے کو تیار ہوئے کہ تو اپنے آپ کو بیٹا خدا کا کہہ کے مساوی خدا کا بناتا ہے اور یہ کفر ہے اس لئے ہم تجھ کو سنگسار کرتے ہیں ۔ ہمارے خداوند نے ان کے زعم کو اس طرح پر ہٹایا کہ مساوی خدا خدا ہوا۔ اگر میں نے اپنے آپ کو خدا کہا تو تمہارے بزرگوں کو خدایان کہا گیا وہاں تم نے ان کے کفر کا الزام کیوں نہ دیا۔ پس ان کی یہ دہان بندی خداوند نے کر دی نہ کہ اپنی الوہیت کا اس نے انکار کر دیا اور نہ اس کا کچھ ثبوت پیش کیا۔ گویا اس کی یہ علیحدہ بات رہی اور اس میں نہ کمی کا اقرار ہے اور نہ زیادتی کا۔ ختم۔ یہ جو جناب فرماتے ہیں کہ مسیح کی تعریفیں توریت میں اور انبیاء سے بڑھ کر بیان