جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 502

جنگ مقدّس — Page 110

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۰۸ جنگ مقدس نام ابناء اللہ رکھا تو اس سے مراد یک من ہونا تھا۔ اور جب مسیح علیہ السلام کا نام ابن اللہ کہا تو اس کا لقب یک تن رکھ دیا۔ میری دانست میں تو اور انبیاء حضرت مسیح علیہ السلام سے اس ۲۴) القاب یابی میں بڑھے ہوئے ہیں کیونکہ حضرت مسیح خود اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے ابن اللہ کہنے میں تم کیوں رنجیدہ ہو گئے یہ کونسی بات تھی زبور میں تو لکھا ہے کہ تم سب الہ ہو۔ حضرت مسیح کے اپنے الفاظ جو یوحناء اباب ہم میں لکھے ہیں یہ ہیں کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں ۔ اب منصف لوگ اللہ تعالیٰ سے خوف کر کے ان آیات پر غور کریں کہ کیا ایسے موقعہ پر کہ حضرت مسیح کی اہنیت کے لئے سوال کیا گیا تھا حضرت مسیح پر یہ بات فرض نہ تھی کہ اگر وہ حقیقت میں ابن اللہ تھے تو انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں دراصل خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں اور تم آدمی ہو مگر انہوں نے تو ایسے طور سے الزام دیا جیسے انہوں نے مہر لگا دی کہ میرے خطاب میں تم اعلیٰ درجہ کے شریک ہو مجھے تو بیٹا کہا گیا اور تمہیں خدا کہا گیا۔ پھر صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ توریت میں اگر چہ دوسروں کو بھی بیٹا کہا گیا ہے مگر مسیح کی بہت بڑھ کر تعریفیں کی گئی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعریفیں مسیح کے حق میں اس وقت قابل اعتبار کبھی جائیں گی جس وقت ہماری شرائط پیش کردہ کے موافق اس کو ثابت کر دو گے۔ اور دوسری یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا ، باب میں آپ کی تاویل کے مخالف اور ہمارے بیان کے موافق ہیں۔ اور یہ خیالات آپ کے حضرت مسیح علیہ السلام نے خودرڈ فرمادیئے ہیں۔ بقیہ کا جواب آپ کے جواب کے بعد لکھا جائے گا۔ دستخط بحروف انگریزی } { دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام و پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان حمد یوحناه ا باب ۳۶،۳۵- (ناشر)