جنگ مقدّس — Page 109
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۰۷ جنگ مقدس دفعہ میں موسیٰ کی جھاڑی کی تمثیل پیش کی ہے۔ یحل متنازعہ فیہ سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی۔ صاحب (۲۳) موصوف مہربانی فرما کر قرآن کریم سے ثابت کر کے دکھلاویں کہ کہاں لکھا ہے کہ وہ آگ ہی خدا تھی یا آگ ہی میں سے آواز آئی تھی۔ بلکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے۔ فَلَمَّا جَاءَ هَا نُودِيَ أَن يُوْرِك مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَ سُبْحَنَ اللهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (سوره نمل س ۱۹ (۱۲) یعنی جب موسیٰ آیا تو پکارا گیا کہ برکت دیا گیا ہے جو آگ میں ہے اور جو آگ کے گرد ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے جسم اور تحیز سے اور وہ رب ہے تمام عالموں کا۔ اب دیکھئے اس آیت میں صاف فرمادیا کہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے گرد میں ہے اس کو برکت دی گئی ۔ اور خدا تعالیٰ نے پکار کر اس کو برکت دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آگ میں وہ چیز تھی جس نے برکت پائی نہ کہ برکت دینے والا۔ وہ تو نودی کے لفظ میں آپ اشارہ فرما رہا ہے کہ اس نے آگ کے اندر اور گرد کو برکت دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ آگ میں خدا نہیں تھا اور نہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے بلکہ اللہ جل شانہ اس وہم کا خود دوسری آیت میں ازالہ فرماتا ہے وَسُبْحَنَ اللهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی خدا تعالی اس حلول اور نزول سے پاک ہے وہ ہر ایک چیز کا رب ہے۔ اور اسی طرح خروج ۳ باب آیت ۲ میں لکھا ہے کہ اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعلے میں سے اس پر ظاہر ہوا۔ اور مسٹر عبداللہ ا نتظم صاحب جو تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن میں اس موقعہ پر یہ بھی لکھا ہے۔ ” میں تیرے باپ اسحاق اور ابراہیم اور یعقوب کا خدا ہوں۔ یہ بیان سراسر خلاف واقع ہے۔ قرآن میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ اگر صاحب موصوف کے حوالجات کا ایسا ہی حال ہے کہ ایک خلاف واقعہ امر جرات کے ساتھ تحریر فرما دیتے ہیں تو پھر وہ حوالجات جو توریت اور انجیل کے تحریر فرمائے ہیں وہ بھی کتا بیں پیش کر کے ملاحظہ کے لائق ہوں گی۔ اور پھر صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ توریت میں مسیح کو یک تن اور انبیاء کو یک من کر کے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ توریت میں نہ تو کہیں ایک تن کا لفظ ہے اور نہ یک من کا۔ صاحب موصوف کی بڑی مہربانی ہوگی کہ بتشریح توریت کے رو سے ثابت کریں کہ توریت نے جب دوسرے انبیاء کا النمل: ٩