جنگ مقدّس — Page 108
روحانی خزائن جلد ۶ 1+4 جنگ مقدس کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم انسان کو مظہر انسان کہا کرتے ہیں۔ ایسا ہی اگر حضرت مسیح کی روح انسانی روح کی سی نہیں ہے اور انہوں نے مریم صدیقہ کے رحم میں اس طریق اور قانون قدرت سے روح حاصل نہیں کی جس طرح انسان حاصل کرتے ہیں۔ اور جوطریق طبابت اور ڈاکٹری کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ تو اول تو یہ ثبوت دینا چاہیے کہ ان کے جنین کا نشو ونما پاناکسی نرالے طریق سے تھا اور پھر بعد اس کے اس عقیدہ کو چھپ چھپ کر خوفزدہ لوگوں کی طرح اور پیراؤں اور رنگوں میں کیوں ظاہر کریں بلکہ صاف کہہ دینا چاہیے کہ ہمارا خدا مسیح ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ہے جس حالت میں خدا اپنی صفات کا ملہ میں تقسیم نہیں ہوسکتا اور اگر اس کی صفات تامہ اور کاملہ میں سے ایک صفت بھی باقی رہ جائے تب تک خدا کا لفظ اس پر اطلاق نہیں کر سکتے ۔ تو اس صورت میں میری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ تین کیونکر ہوگئے ۔ جب آپ صاحبوں نے اس بات کو خود مان لیا اور تسلیم کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مستجمع جمیع صفات کا ملہ ہو تو اب یہ تقسیم جو کی گئی ہے کہ ابن اللہ کامل خدا ۔ اور باپ کامل خدا ۔ اور روح القدس کامل خدا اس کے کیا معنے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ یہ تین نام رکھے جاتے ہیں کیونکہ تفریق ناموں کی اس بات کو چاہتی ہے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی ہو۔ مگر جب کہ آپ مان چکے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی نہیں تو پھر وہ تینوں اقنوم میں ما بہ الامتیاز کون ہے جو ابھی تک آپ لوگوں نے ظاہر نہیں فرمایا۔ جس امر کو آپ ما بہ الامتیاز قرار دیں گے وہ بھی منجملہ صفات کا ملہ کے ایک صفت ہوگی جو اس ذات میں پائی جانی چاہیے جو خدا کہلاتا ہے۔ اب جب کہ اس ذات میں پائی گئی جو خدا قرار دیا گیا تو پھر اس کے مقابل پر کوئی اور نام تجویز کرنا یعنی ابن اللہ کہنا یا روح القدس کہنا بالکل لغو اور بے ہودہ ہو جائے گا۔ آپ صاحب اس میرے بیان کو خوب سوچ لیں کیونکہ یہ دقیق مسئلہ ہے ایسا نہ ہو کہ جواب لکھنے کے وقت یہ امور نظر انداز ہو جائیں۔ خدا وہ ذات ہے جو مجمع جمیع صفات کا ملہ ہے اور غیر کا محتاج نہیں اور اپنے کمال میں دوسرے کا محتاج نہیں اور جو مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے