ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 633 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 633

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳۳ فرمایا میں نے تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ مثیل مسیح بہت آدیں اور کوئی ظاہری طور پر بھی مصداق ان پیشین گوئیوں اور نشانات کا ہو جن کو میں نے روحانی طور پر الہاما اپنے پر چسپاں کیا ہے۔ الہی فیضان کی کوئی حد نہیں اور نہ وہاں کوئی کمی ہے تب میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت (۱۲) میں احادیث کے باعث لوگ کیوں اشکال میں پھنسے ہوئے ہیں ؟ تعجب ہے مگر عزیز من! أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ پر دھیان کرو۔ سنواورغور سے سنو! پیشین گویوں کے پورا ہونے کے واسطے اوقات مقدرہ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے میں نے تین سوالوں کے جواب میں مفصل لکھا ہے اور وہ جواب انجمن حمایت اسلام لاہور نے طبع کرایا ہے۔ مثلاً حضور علیہ السلام کو مکہ کے کفار کہتے ہیں لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَثْبُوعًا آپ کے منکرین نے یہ طلب کیوں کی تھی صرف اسی بناء پر کہ حضور سیدنا و مولا نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی کے سمجھنے میں بالکل ظاہری الفاظ کے معنوں پر موٹی نظر کی تھی۔ وہ پیشین گوئی یسعیاہ نبی کے ۴۳ باب ۱۹ کی ہے۔ یسعیاہ نبی نے حضرت خاتم الانبیاء کے زمانہ کی نسبت فرمایا تھا کہ صحرا میں ندیاں بناؤں گا۔ ظاہر ہے کہ سید ومولی کے وقت زبیدہ والی ندی مکہ میں اور نہر بنی زرقا مدینہ میں جاری نہیں ہوئی تھی ۔ جس پر بعض نے ناعاقبت اندیشی سے ٹھوکر کھائی ۔ عزیز من! ترہیب اور ترغیب میں دلوں کے بڑھانے۔ ہمت و توجہ کی ترقی دینے کو ایسے (۱۳) الہامات بھی ہوتے ہیں جن کا بیان آیت ذیل میں ہے اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلًا (حالانکہ بدر کی جنگ میں مکہ کے کفار مسلمانوں سے بہت زیادہ تھے مگر ایسا الہام کیوں ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ فرماتا ہے ولكن الله سلم ہے۔ سوچو اور غور کرو! العنكبوت: ٣ ے بنی اسرائیل: ۹۱ الانفال: ۴۴