ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 632 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 632

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳۲ ازالہ اوہام حصہ دوم الہامات صادقہ مشاہدات و حقائق نفس الامریہ قواعد شرعیہ ان نصوص کو لامحالہ ظاہر سے اور معنے کی طرف لے جائیں گے۔ چنانچہ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے سورج ، چاند اور سیاروں کو اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا مگر جسمانی عالم میں وہ سورج و چاند د سیارے اُن کے ماں باپ اور بھائی تھے ۔ قرآن کریم میں ایک بادشاہ کا قصہ لکھا ہے جس نے فربہ گائیں اور سبز ہالیاں دیکھیں ۔ جسمانی عالم میں وہ قحط اور ار زانی تھی۔ ہمارے سید و مولی نے رویاء صالحہ میں دیکھا کہ آپ کے کف دست مبارک میں سونے کے کنگن ہیں اور آپ نے اُن کو پھونک سے اُڑا دیا۔ وہ جسمانی عالم میں مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کی تباہی تھی ۔ حضور علیہ السلام نے اپنی بیبیوں سے فرمایا اسرعكن لحوا بي اطولكن يدا۔ لگی بیبیاں ہاتھوں کو ناپنے ۔ مگر واقعات نفس الامریہ نے بتا دیا اور مشاہدات نے دکھا دیا کہ صحابیات کا فہم پیشین گوئی کے سمجھنے میں اس پہلو پر غلط تھا جس پر انہوں نے سمجھا تھا۔ پس دجال اور مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی میں کیوں ایمانی حد سے بڑھ کر لوگ عرفان کے مدعی ہو گئے ہیں اور عارف کے خلاف پر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں بڑا تعجب آتا ہے جب یہ کہتے سنتے ہیں کہ مرزا اجماع کے خلاف کرتا ہے۔ حالانکہ وہی لوگ جن کو مرزا جی سے بہت بڑا نقار ہے امام احمد بن منبل کے اس قول کو ہمیشہ سناتے رہے کہ اجماع کا دعویٰ کذب ہے۔ اور عقل و دنیا کا نظارہ اور علماء کی حالت بھی کہ وہ شرق و غرب و جبال و بحار میں پھیلے ہوئے ہیں گواہی دیتی ہے کہ اجماع کا دعویٰ ایک خیال سے بڑھ کر وقعت نہیں رکھتا۔ عزیز من ! جیسے مرزا جی نے اپنے آپ کو ابن مریم کہا ہے ایک جگہ مریم بھی فرمایا ہے اور اپنے بیٹے مثیل مسیح کا نام عموا نوئیل بتایا ہے ۔ خود خاکسار نے جب مرزا جی کے حضور میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک پیغام پہنچایا تو آپ نے