ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 634
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳۴ ازالہ اوہام حصہ دوم عزیز من! مولوی محمد حسین صاحب پر اللہ تعالیٰ رحم فرما دے ان کو اپنے علم وفضل پر بڑا گھمنڈ ہے اور اللہ کریم کو گھمنڈ پسند نہیں۔ الہامی جماعت کی مخالفت بھی تمہیں ٹھوکر کا باعث نہ ہو ۔ ازالہ اوہام میں اس کا عجیب و غریب جواب موجود ہے اور نصحا میں کہتا ہوں بلا لمد هؤلاء وهؤلاء مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ، اور منی پر آیت إِذَا تَمَلَى القَى الشَّيْطَنُ في أَمْنِيَّتِهِ ۔۔ آپ فکر کرتے رہیں۔ بھائی صاحب ! مرزا جی اس صدی کے مجدد ہیں اور مجدداپنے زمانہ کا مھدی اور اپنے زمانہ کے شدت مرض میں مبتلا مریضوں کا مسیح ہوا کرتا ہے اور یہ امر بالکل تمثیلی ہے جیسے مرزا جی اپنی الہامی رباعی میں ارقام فرما چکے ہیں۔ رباعی کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتادیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا میں اب اس خط کو ختم کرنا چاہتا ہوں ۔ مولوی محمد حسین صاحب کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ جو فیضان کرے گا اس کا اظہار پھر ہور ہے گا۔ یار باقی صحبت باقی ۔ آخر میں یہ شعر تمہیں سنا کر اور ایک تحریک کر کے بس کرتا ہوں ۔ ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبوں کا حوصلہ خدائے تعالیٰ نے پورے طور پر جلوہ قدرت دکھلانے کے لئے ایک ایسے نامی مولوی صاحب سے ہمیں ٹکرا دیا جن کی لیاقت علمی جن کی طاقت نہی جن کی طلاقت لسانی جن کی فصاحت بیانی شہرہ پنجاب و ہندوستان ہے اور خدائے حکیم وعلیم کی مصلحت نے اس ناکارہ کے مقابل پر ایسا نہیں جوش بخشا اور اس درجہ کی بدظنی میں انہیں ڈال دیا کہ کوئی دقیقہ بدگمانی اور مخالفانہ حملہ کا انہوں نے اُٹھا نہیں رکھا۔ تا اس کا ۔ بنی اسرائیل: ۲۱ ۔ الحج: ۵۳