ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 628
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۸ ازالہ اوہام حصہ دوم عزیز من! ایمانی امور میں کسی قدر اخفا کا ہونا ایک ضروری اور لازمی امر ہے ۔ اگر کوئی معاملہ بالکل عیاں ہو جاوے تو پھر اخفا کہاں ۔ عیاں وخفا میں مقابلہ ہے ۔ اسی واسطے شرعیہ احکام وامور میں جسمانی شمس و قمر کا ماننا ایمانی امور میں داخل نہیں ۔ اور اسی واسطے قیامت کے روز شرعیہ تکالیف علی العموم اُٹھ جائیں گی ۔ پس تم پیشگوئیوں میں ایمان سے کام لو ۔ ان کے فہم میں عرفان کے مدعی نہ بنو۔ ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا وہ ایک واقعہ قابل غور ہے جو قرآن کریم کے پندرہ سیپارہ کے آخر اور سولہ سیپارہ کے ابتدا میں مندرج ہے۔ اس واقعہ کے بیان میں ایک طرف سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کا اولو العزم صاحب شریعت رسول ہونا یہود عیسائیوں اور محمد یوں میں مسلم ہے ۔ اس مقدس نبی نے جیسے امام المحد ثین امام بخاری رحمتہ اللہ وغیرہ نے ارقام فرمایا ہے کہیں انا اعلم کہہ دیا تب الہیہ غیرت نے اپنے پیارے بندے سید نا خضر علیہ السلام کا انہیں پتہ دیا ۔ جب جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اس عارف سے ملے تو اس کے نیچے علوم و اسرار کی تہ تک نہ پہنچے ۔ جناب خضر علیہ السلام نے انہیں فرما دیا تھا إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبرا اور فرما دیا تھا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَالَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا - پس منجملہ آداب الہیہ کے یہ ادب ضرور ہی تھا کہ ایسے بندوں کے معاملات میں کم سے کم خاموشی اختیار کی جاتی ۔ اس وقت تک کہ لوگ مرزا جی کے معاملہ میں صریح کفر کو دیکھ لیتے ۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی بے صبری کو خبر دار حجت نہ پکڑ نا ! اور ہرگز حجت نہ پکڑ نا کیونکہ ستید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ لیت موسى سكت حتى يقص الله علينا ۔ : میری اس بات پر کسی بدظنی سے کام نہ لینا ۔ میں محمدی ہوں اور محمد یوں کو بحمد اللہ کچھ ایسے انعامات عطا ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی سرور میں آکر اللہ کی پاک جناب میں انت عبدی و انا ربک کہہ دے تو انشاء اللہ تعالیٰ جہنمی نہ ہو اگر چہ بیچ یہی ہے الكهف : ۶۹،۶۸