ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 451
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۱ ازالہ اوہام حصہ دوم ہے وہ آسمان سے ہی اُتری ہے۔ اس طرح پر کہ ان چیزوں کے علل موجبہ اُسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اور نیز اس طرح پر کہ اُسی کے الہام اور القاء اور سمجھانے اور عقل اور فہم بخشنے سے ہر یک صنعت ظہور میں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتی اور ہر یک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق دی جاتی ہے۔ علی ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و (۲۵۰) حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق ہی کھلتے ہیں۔ مثلاً جس زمانہ میں ہم ہیں اور جن معارف فرقانیہ کے ہمقابل دجالی فرقوں کی ہمیں اس وقت ضرورت آپڑی ہے وہ ضرورت اُن لوگوں کو نہیں تھی جنہوں نے اِن دجالی فرقوں کا زمانہ نہیں پایا ۔ سو وہ باتیں ان پر مخفی رہیں اور ہم پر کھولی گئیں ۔ مثلاً اس بات کی انتظار میں بہت لوگ گذر گئے کہ سچ سچ مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آجائے گا اور خدائے تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے قبل از وقت اُن پر یہ راز نہ کھولا کہ مسیح کے دوبارہ آنے سے کیا مراد ہے ۔ اب جو یہودیت کی صفتوں کا عام وبا پھیل گیا اور مسیح کے زندہ ماننے سے نصاری کو اپنے مشرکانہ خیالات میں بہت سی کامیابی ہوئی۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اب اصل حقیقت ظاہر کرے ۔ سو اس نے ظاہر کر دیا کہ مسلمانوں کا مسیح مسلمانوں میں سے ہی ہو گا جیسا کہ بنی اسرائیل کا مسیح بنی اسرائیل میں سے ہی تھا۔ اور اچھی طرح کھول دیا کہ اسرائیلی مسیح فوت ہو چکا ہے اور یہ بھی بیان کر دیا کہ فوت شدہ پھر دنیا میں آنہیں سکتا جیسا کہ (۲۵۱) جاب کی حدیث میں بھی مشکوۃ کے باب مناقب میں اسی کے مطابق لکھا ہے اور وہ یہ ہے ۔ قال قد سبق القول منّى انهم لا يرجعون ۔ رواه الترمذی یعنی جو لوگ دنیا سے گذر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے ۔