ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 452

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۲ ازالہ اوہام حصہ دوم قرآن کریم کی شان بلند جواُسی کے بیان سے ظاہر ہوتی ہے وكل العلم في القرآن لكن تقاصر منه افهام الرجال جاننا چاہیے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی ۔ ایک گروہ مسلمانوں کا ایسا فلاسفہ (۱۵۲) ضالہ کا مقلد ہو گیا کہ وہ ہر ایک امر کا عقل سے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا بیان ہے کہ اعلیٰ درجہ کا حکم جو تصفیہ تنازعات کے لئے انسان کو ملا ہے وہ عقل ہی ہے ۔ ایسے ہی لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وجود جبرائیل اور عزرائیل اور دیگر ملائکہ کرام جیسا کہ شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے اور وجود جنت و جہنم جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے وہ تمام صداقتیں عقلی طور پر بپایہ ثبوت نہیں پہنچتیں تو فی الفور اُن سے منکر ہو جاتے ہیں اور تاویلات رکیکه شروع کر دیتے ہیں کہ ملائک سے صرف قوتیں مراد ہیں اور وحی رسالت صرف ایک ملکہ ہے اور جنت اور جہنم صرف ایک روحانی راحت یا رنج کا نام ہے۔ ان بے چاروں کو خبر نہیں کہ آلہ دریافت مجہولات صرف عقل نہیں ہے وبس بلکہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور انتہائی مقام کے معارف تو وہی ہیں جو مبلغ عقل سے صد ہا درجہ بلند تر ہیں جو بذریعہ مکاشفات صحیحہ ثابت ہوتی ہیں۔ اور اگر صداقتوں کا محک صرف عقل کو ہی ٹھہرایا جائے تو بڑے بڑے عجائبات کا رخانہ الوہیت کے در پردہ مستوری و مجوبی رہیں گے (۱۵۳) اور سلسلہ معرفت کا محض نا تمام اور ناقص اور ادھورا رہ جائے گا اور کسی حالت میں انسان شکوک اور شبہات سے مخلصی نہیں پاسکے گا اور اس یک طرفہ معرفت کا آخری نتیجہ یہ ہوگا