ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 450

روحانی خزائن جلد۳ ۴۵۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ۱۳۸ کے لئے اگر کوئی نبی آتا تو پھر خاتم الانبیاء کی شان عظیم میں رخنہ پڑتا ۔ اور یہ تو ثابت ہے کہ اس مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے لئے ضروری طور پر وہ حکمت اور معرفت سکھلائی گئی ہے جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی تھی کیونکہ بغیر ضرورت کے کوئی علم عطا نہیں ہوتا ۔ و ماننزله إلا بقدر معلوم قرآن کریم کے رو سے مثیل مسیح کا آخری زمانہ میں اس اُمت میں آنا اس طور سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنے کئی مقامات میں فرماتا ہے کہ اس امت کو اسی طرز سے خلافت دی جائی گی اور اسی طرز سے اس اُمت میں خلیفے آئیں گے جو اہل کتاب میں آئے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اہل کتاب کے خلفاء کا خاتمہ مسیح ابن مریم پر ہوا تھا جو بغیر سیف وسنان کے آیا تھا۔ مسیح در حقیقت آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ لہذا حسب وعدہ قرآن کریم ضرور تھا کہ اس اُمت کے خلفاء کا خاتمہ بھی مسیح پر ہی ہوتا اور جیسے موسوی شریعت کا ابتدا موسیٰ سے ہوا اور انتہاء مسیح ابن مریم پر ۔ ایسا ہی اس اُمت کے لئے ہو ۔ فَطُوبَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ۔ ۱۳۹) اور احادیث میں جو نزول مسیح ابن مریم کا لفظ ہے ہم اس میں یہ بسط تمام لکھ آئے ہیں کہ نزول کے لفظ سے در حقیقت آسمان سے نازل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں آیا ہے قَدْ اَنْزَلَ الله إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا لے تو کیا اس سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے ہی اُترے تھے بلکہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے وَاِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَآنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ سے یعنی دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و بمقتضائے مصلحت و حکمت ہم اُن کواُتارتے ہیں۔ اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ہر ایک چیز جو دنیا میں پائی جاتی الطلاق : ١٢،١١ الحجر :٢٢