ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 449
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۴۹ ازالہ اوہام حصہ دوم مور داحسانات حضرت عزت ہونے کے پوری پوری مماثلت ثابت ہو جائے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب القیامت لوگوں کا نام یہودی رکھا ہے پھر اگر اُسی نبی نے ایسے شخص کا نام ابن مریم رکھ دیا ہو جو ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہو تو اس میں کونسی تعجب اور قباحت اور استبعاد کی بات ہے۔ بلاغت میں یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ ایک فقرہ کے مناسب حال دوسر ا فقرہ بیان کرنا پڑتا ہے مثلاً جیسے کوئی کہے کہ تمام دنیا فرعون بن گئی ہے تو اس فقرہ کے مناسب حال یہی ہے کہ اب کوئی موسیٰ اُن کی اصلاح کے لئے آنا چاہیے لیکن اگر اس طرح کہا جائے کہ تمام دنیا فرعون بن گئی ہے ان کی اصلاح کے لئے اب عیسی آنا چاہیے تو کیسا بُرا اور بے محل معلوم ہوتا ہے کیونکہ فرعون کے ساتھ موسیٰ کا جوڑ ہے نہ عیسی کا ۔ اسی طرح جب آخری زمانہ کی اُمت محمدیہ کو یہودی قرار دیا اور یہودی بھی وہ یہودی جو شریعت موسوی کے آخری عہد میں تھے جن کے لئے حضرت مسیح بھیجے ۶۲۷ گئے تھے اور تمام خصلتیں اُن کی بیان کر دی گئیں اور بعینہ اُن کو یہودی بنا دیا تو کیا اس کے مقابل پر یہ موزوں نہ تھا کہ جب تم یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے لئے عیسی ابن مریم بھیجا جائے گا۔ دجالیت حقیقت میں یہودیوں کا ہی ورثہ تھا اور اُن سے نصاریٰ کو پہنچا۔ اور دجال اس گروہ کو کہتے ہیں جو کذاب ہو ۔ اور زمین کو نجس کرے اور حق کے ساتھ باطل کو ملا وے۔ سو یہ صفت حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں کمال درجہ پر تھی پھر نصاری نے اُن سے لی ۔ سو مسیح ایسی دجالی صفت کے معدوم کرنے کے لئے آسمانی حربہ لے کر اُترا ہے وہ حربہ دنیا کے کاریگروں نے نہیں بنایا بلکہ وہ آسمانی حربہ ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مثیل موسیٰ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو موسیٰ سے افضل ہیں تو پھر مثیل مسیح کیوں ایک امتی آیا۔ اس کا جواب یہ ہے که مثیل موسیٰ کی شان نبوت ثابت کرنے کے لئے اور خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے