ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 448

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۴۸ ازالہ اوہام حصہ دوم فساد یہودیوں میں واقع ہو گیا تھا اور انواع واقسام کے فرقے اُن میں پیدا ہو گئے تھے اور با ہمی ہمدردی اور محبت اور حقوق اخوت سب دور ہو کر بجائے اس کے تباغض و تحاسد اور کینہ اور عداوت با ہمی پیدا ہو گئے تھے اور خدا تعالیٰ کی پرستش اور خوف الہی بھی اُن کے دلوں میں سے اُٹھ گیا تھا اور جھگڑے اور فساد اور دنیا پرستی کے خیالات اور انواع اقسام کے مکر زاہدوں اور مولویوں اور دنیا داروں میں اپنے اپنے طرز کے موافق پیدا ہو گئے تھے اور اُن کے ہاتھ میں بجائے مذہب کے صرف رسم اور عادت رہ گئی تھی ۔ اور حقیقی نیکی سے بکلی بے خبر ہو گئے تھے اور ۱۳۵ دلوں میں از حدرختی بڑھ گئی تھی۔ ایسے زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کو بنی اسرائیل کے نبیوں کا خاتم الانبیاء کر کے بھیجا۔ مسیح ابن مریم تلوار یا نیزہ کے ساتھ نہیں بھیجا گیا تھا اور نہ اس کو جہاد کا حکم تھا بلکہ صرف حجت اور بیان کی تلوار اس کو دی گئی تھی تا یہودیوں کی اندرونی حالت درست کرے اور توریت کے احکام پر دوبارہ اُن کو قائم کر دے۔ ایسا ہی شریعت محمدیہ کے آخری زمانہ میں جو یہ زمانہ ہے اکثر مسلمانوں نے سراسر یہودیوں کا رنگ قبول کر لیا اور اپنے باطن کی رُو سے اُسی طرز کے یہودی ہو گئے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے ۔ لہذا خدائے تعالیٰ نے تجدید احکام فرقان کریم کے لئے ایک شخص کو بعینہ مسیح ابن مریم کے رنگ پر بھیج دیا اور استعارہ کے طور پر اس کا نام بھی مسیح عیسی ابن مریم رکھا جیسا کہ حضرت عیسی کا پورا نام فرقان کریم میں یہی ہے ۔ كما قال الله تعالى اسمه المسيح عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ۔ سو چونکہ اس بات کا ظاہر کرنا منظور تھا کہ جب آخری زمانہ میں اس اُمت میں فساد واقع ہوا (۱۴۲) تو اس اُمت کو بھی ایک مسیح ابن مریم دیا گیا جیسا کہ حضرت موسیٰ کی اُمت کو دیا گیا تھا۔ لہذا یہ ضروری ہوا کہ اس آنے والے کا نام بھی ابن مریم ہی رکھا جائے تا یہ احسان باری تعالیٰ کا ہر ایک آنکھ کے سامنے آجائے اور تا اُمت موسویہ اور اُمت محمدیہ میں از رو ال عمران : ۴۶