ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 427

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں۔ اُن کی بھی کامل زندگی ہے مگر وہ دنیا کی ایک ناقصہ کثیفہ زندگی سے نجات پاگئے ہیں۔ دنیا کی زندگی کیا چیز ہے اور کیا حقیقت۔ ایک جاہل اسی کو بڑی چیز سمجھتا ہے اور ہر ایک قسم کی زندگی کو جو قرآن شریف میں مذکور و مندرج ہے اسی کی طرف گھسیٹتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ دنیوی زندگی تو ایک ادنی درجہ کی زندگی ہے جس کے ارذل حصہ سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے اور جس کے ساتھ نہایت غلیظ اور مکروہ لوازم لگے ہوئے ہیں۔ اگر ایک انسان کو اس سفلی زندگی سے ایک بہتر (۲۰۲) زندگی حاصل ہو جائے اور سنت اللہ میں فرق نہ آوے تو اس سے زیادہ اور کون سی خوبی ہے۔ (۷) ساتویں آیت یہ ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ لا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں ۔ اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا بی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جواب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے۔ کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدائے تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔ (۸) آٹھویں یہ آیت ہے وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَأَبِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخَلِدُون سے ۔ یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ زندہ اور ایک حالت پر رہنے والا نہیں بنایا۔ پس کیا اگر تو مر گیا تو یہ لوگ باقی رہ جائیں گے ۔ اس آیت کا مدعا ۲۰۷ یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے بچا نہیں اور نہ آئندہ بچے گا۔ اور لغت کے رو سے خلود کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے کیونکہ تغیر موت اور زوال کی تمہید ہے پس نفی خلود سے ثابت ہوا ال عمران : ۱۴۵ الانبیاء : ۳۵