ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 428
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۸ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر یک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح ابن مریم کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کی باعث سے فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ (۹) نویس آیت تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ لا یعنی اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا۔ اُن کے اعمال اُن کے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور اُن کے کاموں سے تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔ (۱۰) دسویں آیت وَاَوْطَنِى بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَیات ۔ اس کی تفصیل ہم اسی رسالہ میں بیان کر چکے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لئے حضرت عیسی کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت بیچی ان کی نماز کی حالت میں اُن کے پاس یونہی پڑے رہتے ہیں مردے جو ہوئے۔ اور جب دنیا میں حضرت عیسی آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑہیں گے۔ ۲۰۸ (۱۱) گیارھویں آیت وَالسَّلَامُ عَلَى يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حیا ہے ۔ اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے ۔ صرف تین بیان کئے گئے ہیں حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سو اس جگہ پر خدائے تعالیٰ کا اس رفع اور نزول کو ترک کرنا جو مسیح ابن مریم کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال نیچ اور خلاف واقعہ ہے بلکہ وہ رفع یوم اموت میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔ (۱۲) بارھویں آیت وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفَى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ہے ۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے۔ البقرة : ۱۳۵ مریم ۳۲ مریم :۳۴ الحج :