ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 426
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۶ ازالہ اوہام حصہ دوم بتفریح بیان کیا گیا ہے کہ اب حضرت عیسی اور اُن کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے ہاں کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے جیسا کہ گانا کا لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے جو حال کو چھوڑ کر گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔ اب ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم طعام کھانے سے اسی وجہ سے روکی گئی کہ وہ ۲۰۴ فوت ہوگئی اور چونکہ گانا کے لفظ میں جو تثنیہ کا صیغہ ہے حضرت عیسی بھی حضرت مریم کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے داخل ہیں لہذا حضرت مریم کی موت کے ساتھ اُن کی موت بھی مانی پڑی کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکے گئے لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے۔ اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ مَا جَعَلَهُمْ جَسَد الا يَأْكُلُونَ الطعام 1 جس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہومگر کھانا نہ کھا تا ہو تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہو گئے کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہو گیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔ (1) چھٹی یہ آیت ہے وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَام ہے ۔ اس آیت کا پہلی آیت کے ساتھ ابھی بیان ہو چکا ہے اور در حقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح کی ۲۰۵ موت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ جبکہ کوئی جسم خا کی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا یہی سنت اللہ ہے تو پھر حضرت مسیح کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں اور اللہ جل شانه فرماتا ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ اُن کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی اُن کو بھی مار چکی ہے۔ بیشک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ا الانبياء : ٩ الاحزاب : ٦٣