ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 418
روحانی خزائن جلد ۳ ΓΙΑ ازالہ اوہام حصہ دوم (۵۸۹) حضرت عیسی ابن مریم بھی اسی کام کے لئے آئے تھے اور اُس زمانہ میں آئے تھے جبکہ یہودیوں کے مسلمانوں کی طرح بہت فرقے ہو گئے تھے اور توریت کے صرف ظاہر الفاظ کو انہوں نے پکڑ لیا تھا اور روح اور حقیقت اس کی چھوڑ دی تھی اور نکمی نکمی باتوں پر جھگڑے بر پا ہو گئے تھے اور باہم کمینگی اور کم حوصلگی کی وجہ سے بغض اور حسد اور کینہ ان متفرق فرقوں میں پھیل گیا تھا۔ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا تھا اور شیر اور بکری کی عداوت کی طرح ذاتی عداوتوں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور باعث اختلاف عقیدہ اپنے بھائیوں سے محبت نہیں رہی تھی بلکہ درندگی پھیل گئی تھی اور اخلاقی حالت بغایت درجہ بگڑ گئی تھی اور باہمی رحم اور ہمدردی بکلی دور ہوگئی تھی۔ اور وہ لوگ ایسے حیوانات کی طرح ہو گئے تھے کہ حقیقی نیکی کو ہرگز شناخت نہیں کر سکتے تھے اور تباغض تحاسد کا بازار گرم ہو گیا تھا اور صرف چند رسوم اور عادات کو مذہب سمجھا گیا تھا۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو بشارت دی تھی کہ آخری ۵۹۰) زمانہ میں تمہارا بھی یہی حال ہوگا ۔ بہت سے فرقے تم میں نکل آئیں گے اور بہت سے متضاد خیالات پیدا ہو جائیں گے اور ایک گروہ دوسرے گروہ کو یہودیوں کی طرح کا فر سمجھے گا اور اگر نانوے وجوہ اسلام کے موجود ہوں تو صرف ایک وجہ کو کفر کی وجہ سمجھ کر کا فرٹھہرایا جائے گا۔ سو با ہمی تکفیر کی وجہ سے سخت نفرت اور بغض اور عداوت با ہم پیدا ہو جائے گی ۔ اور بوجہ اختلاف رائے کے کینہ اور حسد اور درندوں کی سی خصلتیں پھیل جائیں گی اور وہ اسلامی خصلت جو ایک وجود کی طرح کامل اتحاد کو چاہتی ہے اور محبت اور ہمدردی باہمی سے پُر ہوتی ہے بکلی تم میں سے دور ہو جائے گی اور ایک دوسرے کو ایسا اجنبی سمجھ لے گا کہ جس سے مذہبی رشتہ کا بکلی تعلق ٹوٹ جائے گا اور ایک گروہ دوسرے کو کافر بنانے میں کوشش کرے گا جیسا کہ مسیح ابن مریم کی بعثت کے وقت یہی حال یہود کا ہو رہا تھا اور اس اندرونی تفرقہ اور بغض اور حسد اور عداوت کی وجہ سے دوسری قوموں کی نظر میں نہایت درجہ کے حقیر اور ذلیل اور کمزور ہو جائیں گے اور اس معکوس ترقی کی