ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 419
۴۱۹ روحانی خزائن جلد۳ ازالہ اوہام حصہ دوم وجہ سے جو اندرونی جھگڑوں کی طفیل سے کمال کو پہنچے گی فنا کے قریب ہو جائیں گے اور کیٹروں کی طرح ایک دوسرے کو کھا جانے کا قصد کریں گے اور بیرونی حملوں کو اپنے پر وارد ہونے (۵۹۱ کے لئے موقعہ دیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں یہودیوں کے ساتھ ہوا جو اندرونی نفاقوں کی وجہ سے اُن کی ریاست بھی گئی اور قیصر کے تحت میں غلاموں کی طرح بسر کرنے لگے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کی معرفت فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسا ہی تمہارا حال ہوگا۔ تمہاری مذہبی عداوتیں اپنے ہی بھائیوں سے انتہاء تک پہنچ جائیں گی ۔ بغض اور حسد اور کینہ سے بھر جاؤ گے۔ اس شامت سے نہ تمہاری دنیا کی حالت اچھی رہے گی نہ دین کی نہ انسانی اخلاق کی نہ خدا ترسی باقی رہے گی نہ حق شناسی ۔ اور پورے وحشی اور ظالم اور جاہل ہو جاؤ گے اور وہ علم جو دلوں پر نیک اثر ڈالتا ہے تم میں باقی نہیں رہے گا ۔ اور یہ تمام بے دینی اور نا خدا ترسی اور بے مہری پہلے ممالک مشرقیہ میں ہی پیدا ہوگی اور دجال اور یا جوج ماجوج انہیں ممالک سے خروج کریں گے یعنی اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ دکھلائی دیں گے۔ ممالک مشرقیہ سے مراد ملک فارس اور نجد اور ملک ہندوستان ہے کیونکہ یہ سب ممالک زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہی واقع ہیں اور ضرور تھا کہ حسب پیشگوئی رسول اللہ (۵۹۲) صلی اللہ علیہ وسلم کفر اور کا فری انہیں جگہوں سے قوت کے ساتھ اپنا جلوہ دکھا دے انہیں ممالک میں سے کسی جگہ دجال خروج کرے اور انہیں میں مسیح بھی نازل ہو کیونکہ جو جگہ محل کفر اور فتن ہو جائے وہی جگہ صلاح اور ایمان کی بناڈالنے کے لئے مقرر ہونی چاہیے سو ان ممالک مشرقیہ میں سے ملک ہند جیسا زیادہ تر محل کفر اور فتن اور نفاق اور بغض اور کینہ ہو گیا ہے۔ ایسا ہی وہ زیادہ تر اس بات کے لائق تھا کہ مسیح بھی اسی ملک میں ظہور کرے اور جیسا کہ سب سے اوّل آدم کے خروج کے بعد اسی ملک پر نظر رحم ہوئی تھی ایسا ہی آخری زمانہ میں بھی اسی ملک پر نظر رحم ہو۔ اور ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر اپنی اُمت کے حق میں فرما دیا تھا کہ تم آخری زمانہ میں بکلی یہودیوں کے