ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 417
روحانی خزائن جلد۳ ۴۱۷ ازالہ اوہام حصہ دوم طرف سے براہ راست نہیں بلکہ اپنے نبی کے طفیل سے علم پاتا ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۹ میں جو ایک الہام اس عاجز کا درج ہے وہ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے كل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم ، فتبارك من عَلَّمَ وتَعَلَّمَ يعنى ہر یک برکت جو اس عاجز پر به پیرا یہ الہام و کشف وغیرہ نازل ہو رہی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے اور اُن کے توسط سے ہے پس اس ذات میں کثرت سے برکتیں ہیں جس نے سکھلایا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس میں بھی کثرت سے برکتیں ہیں جس نے سیکھا یعنی یہ عاجز لیکن اگر واقعی اور حقیقی طور پر مسیح ابن مریم کا نازل ہونا خیال کیا جائے تو اس قدر خرابیاں پیش آتی ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا اور اس بات کے سمجھنے کے لئے نہایت صریح اور صاف قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ حقیقی طور پر نزول ہرگز مراد نہیں بلکہ ایک استعارہ کے لحاظ سے دوسرا استعارہ استعمال کیا گیا ہے یعنی جبکہ اس اُمت کے لوگوں کو (۵۸۸) استعارہ کے طور پر یہود ٹھہرایا گیا اور اُن میں اِن تمام خرابیوں کا دخل کر جانا بیان کیا گیا جو حضرت مسیح ابن مریم کے وقت دخل کر گئی تھیں تو اسی مناسبت کے لحاظ سے یہ بھی کہا گیا کہ تمہاری اصلاح کے لئے اور تمہارے مختلف فرقوں کا فیصلہ کرنے کے لئے بطور حکم کے تم میں سے ہی ایک شخص بھیجا جائے گا جس کا نام مسیح یا عیسی یا ابن مریم ہوگا ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اُمت ایسی نا کا رہ اور نالائق اُمت نہیں کہ صرف اپنے اندر یہی مادہ رکھتی ہو کہ اُن وحشی طبع یہودیوں کا نمونہ بن جائے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے بلکہ یہ مسیح بھی بن سکتی ہے۔ پس جس وقت بعض یہودی بن جائیں گے اُس وقت بعض مسیح ابن مریم بن کر آئیں گے تا لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ امت مرحومہ جیسے ادنی اور نفسانی آدمیوں کو اپنے گروہ میں داخل رکھتی ہے ایسا ہی اس گروہ میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جن کو اُن کے کمالات کی وجہ سے عیسی بن مریم یا موسیٰ بن عمران بھی کہہ سکتے ہیں اور دونوں قسم کی استعداد میں اِس اُمت میں موجود ہیں۔ می تواند شد یہودی می تواند شد مسیح ۔ واضح ہو کہ