ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 416
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۶ ازالہ اوہام حصہ دوم منفعل ہو کر جواب دیتے ہیں کہ اگر چہ در حقیقت یہ صریح خرابیاں ہیں جن سے انکار نہیں ہو سکتا مگر کیا کریں در حقیقت اسی بات پر اجماع ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح رسول اللہ ہونے کی حالت میں نزول فرمائیں گے اور چالیس برس حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر نازل ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ یہی مضمون حدیثوں سے بھی نکلتا ہے اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس قدر تو بالکل سچ ہے کہ اگر وہی مسیح رسول اللہ صاحب کتاب آجائیں گے جن پر جبرائیل نازل ہوا کرتا تھا تو وہ شریعت محمدیہ کے قوانین دریافت کرنے کے لئے ہر گز کسی کی شاگردی اختیار نہیں کریں گے بلکہ سنت اللہ کے موافق جبرائیل کی معرفت وحی الہی اُن پر نازل ہوگی اور (۵۸۲) شریعت محمدیہ کے تمام قوانین اور احکام نئے سرے اور نئے لباس اور نئے پیرا یہ اور نئی زبان میں اُن پر نازل ہو جائیں گے اور اس تازہ کتاب کے مقابل پر جو آسمان سے نازل ہوئی ہے قرآن کریم منسوخ ہو جائے گا لیکن خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہر گز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔ اور حدیثوں کے پڑھنے والوں نے یقینا یہ بڑی بھاری غلطی کھائی ہے کہ صرف عیسی یا ابن مریم کے لفظ کو دیکھ کر اس بات کو یقین کر لیا ہے کہ سچ سچ وہی ابن مریم آسمان سے نازل ہو جائے گا جو رسول اللہ تھا۔ اور اس طرف خیال نہیں کیا کہ اُس کا آنا گویا دین اسلام کا دنیا سے رخصت ہونا ہے یہ تو اجماعی عقیدہ ہو چکا۔ اور مسلم میں اس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص ۵۸۷) مراد ہو جو محدثیت کا مرتبہ رکھتا ہوتو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی کیونکہ محدث من وجه نبی بھی ہوتا ہے مگر وہ ایسا نبی ہے جو نبوت محمدیہ کے چراغ سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اپنی