ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 384

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۴ ازالہ اوہام حصہ دوم انشاء اللہ القدیر براہین احمدیہ کے حصص باقیہ میں بتفریح وتفصیل بیان کریں گے۔ سواسی قرآن کریم نے حضرت مسیح کی وفات کے منکرین کو ایسی زک دی ہے کہ اب وہ ذرا ٹھہر نہیں سکتے اور اس جنگ میں نا سمجھ لوگوں نے ایسی شکست کھائی ہے کہ اس شکست کی کوفت عمر بھر انہیں نہیں بھولے گی ۔ غرض قرآن شریف دھکے دے دے کر اُن کو اپنے دربار سے باہر نکال رہا ہے۔ اب رہی حدیثیں سوسب سے اول یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے مقابل پر حدیثوں کی کیا قدر اور منزلت ہے اور جب قرآن کریم کے نصوص پینہ سے کوئی حدیث مخالف پڑے تو کہاں تک اس کے اعتبار کو وزن دے سکتے ہیں۔ سو جاننا چاہیے کہ قرآن کریم وہ یقینی اور قلعی کلام الہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعفہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدائے تعالی کا ہی کلام ہے (۵۲۹) اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں۔ اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گنے ہوئے ہیں۔ وہ باعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے لیکن احادیث تو انسانوں کے دخل سے بھری ہوئی ہیں۔ جو ان میں سے صحیح کہلاتی ہیں اُن کا اتنا بھی مرتبہ نہیں جو ایک آیت کے مقابلہ پیر ایک کروڑ اُن میں سے وہ رنگ اور شان پیدا کر سکے جو اللہ جل شانہ کی بے مثل کلام کو حاصل ہے اگر چہ حدیث صحیح بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ سند متصل ثابت ہو ایک قسم کی وحی ہے مگر وہ ایسی تو نہیں جو قائم مقام قرآن شریف ہو سکے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف کی جگہ صرف حدیث پڑھ کر نماز نہیں ہو سکتی۔ حدیثوں میں ضعف کی وجوہات اس قدر ہیں کہ ایک دانا آدمی اُن پر نظر ڈال کر ہمیشہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اُن کو تقویت دینے کے لئے کم سے کم نص قرآنی کا کوئی اشارہ ہی ہو ۔ یہ سچ ہے کہ حدیثیں صحابہ کی زبان سے بتوسط کئی راویوں کے مؤلفین صحاح تک پہنچی ہیں اور یہ بھی سچ ہے